| 86977 | خرید و فروخت کے احکام | شئیرزاور اسٹاک ایکسچینج کے مسائل |
سوال
میں ایک کمپنی کے شئیرز خریدنا چاہتا ہوں، اس کے بارے میں، میں نے انٹرنیٹ پر کافی تحقیق کی اور شئیرز کے کاروبار کی حلت یا حرمت کے بارے میں بنوری ٹاؤن اور دارالعلوم دیوبند کے فتاوی کا مطالعہ کیا۔ اب میں یہ سوال دارالعلوم کورنگی سے اور جامعہ الرشید کے دارالافتاءسے کرنا چاہتا ہوں؛ کیونکہ مجھے ان کی رائے میں تحمل اور اعتدال معلوم ہوتا ہے۔ دار العلوم کراچی حضرت شیخ الاسلام صاحب سے نسبت ہے اور میں اس مسئلے میں انہی کی رائے پر اعتماد کروں گا۔ اب میں نے مندرجہ بالا دارالافتا ء کی ویب سائٹس پر جو پڑھا ہے، اس کی تفصیلات ذکر کر دیتا ہوں:
وہ کہتے ہیں شئیرز کے کاروبار کے جائز ہونے کے لیے کمپنی کا اکثر سرمایہ حلال اور اثاثے موجود ہونا ضروری ہیں۔ دوسرا کمپنی میں کسی ایسے شخص کی سرمایہ کاری نہ ہو، جس کا سرمایہ حرام ہے۔ تو مجھے اس پر اشکال ہے کہ تقریباً ہر کمپنی میں ایسے شخص کی آمدنی کی سرمایہ کاری موجود ہوتی ہے، جس کی اکثر آمدن حرام ہو تو کیا یہ شرط اس طرح تو نہیں کہ اگر حرام آمدنی والے شئیر ہولڈرز زیادہ ہوں تو ایسی کمپنی سے شئیرز کا کاروبار حرام ،ورنہ حلال ہے؟ دوسرا انھوں نے یہ شرط بھی بیان کیاہے کہ کمپنی پورا پرافٹ جتنا ایک شئیر ہولڈر کا حصہ بنتا ہو اسے دے گا ورنہ یہ کاروبار حرام ہے۔ تو اگر کوئی اپنی مرضی سے اس حصہ سے دستبردار ہوجائےتو کیایہ کاروبار حلال ہوجائے گا؟ اتنی بات ٹھیک ہے کہ پورا پرافٹ مل جائے تو اس میں بہت فائدہ ہے، لیکن ہمارے کہنے سے کمپنی اپنا قانون نہیں بدلے گی، اس لیے کہ وہ بہت یعنی نہ ہونے کے برابر پرافٹ تقسیم کرتے ہیں، لیکن اگر کوئی دوسرے کاروباری فائدے کے لیے اس پرافٹ سے نا چاہتے ہوئے دستبردار ہوجائے تو کیا حکم ہے؟ تیسرا انھوں نے کہا کہ اگر شئیر اس نیت سے خریدے جائیں کہ اسے اندازہ ہو کہ کب شئیر بڑھے گا اور بڑھنے پر وہ بیچ دے تو اس میں جوے کا عنصر ہے اور انہوں نے اس میں سخت قباحت یا شاید حرام لکھا ہے۔اس پر میرا سوال ہے کہ شئیر ایسی کمپنی کا ہو جس کے اثاثے وجود رکھتے ہوں اور اکثر اور بنیادی کاروبار بھی حلال ہو تو ایسی کمپنی کے شئیرز خرید کر بندہ ان کا مالک بن جاتا ہے، تو پھر اسے فائدہ ہونے پر بیچنا کیوں ناجائز ہے یا پھر آپ کی رائے میں حلال ہے؟ اس بارے میں جامعہ کے سینئر مفتیان کرام کا فتوی درکار ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ نے سوال میں جن اداروں کے فتاویٰ کا حوالہ دے کرباتیں لکھی ہیں ،اس میں ابہام ہے۔ہم نے تلاش کیے، لیکن سوال کے مطابق فتاویٰ نہیں ملے۔ ہوسکتاہے کہ اصل فتاویٰ اور ان سےآپ کی اخذ کردہ مطالب میں غلط فہمی ہوئی ہو،اسی لیے اس ابہام کودور کرنے واسطے ہم نےکئی مرتبہ آپ سےفون پہ رابطہ کی کوشش کی،لیکن ممکن نہیں ہوسکا۔ لہذاجن فتاویٰ سے سوال میں مذکورہ مطالب نکالے گئےہیں ،ان فتاویٰ کی کاپی اور فتاویٰ نمبر منسلک کرکے سوال دوبارہ بھیجنے پر ہی بہتر جواب دیا جاسکتاہے۔باقی دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی کےمطابق کمپنی کے شیئرز کی خریداری مندرجہ ذیل شرطوں کے ساتھ جائز ہے:
1.کمپنی کا اصل کاروبار حلال ہو۔
.2 ایسی کمپنیز کے شیئرزخریدے جائیں جن کی حرام آمدنی کا تناسب مجموعی آمدن میں سے پانچ فیصد(5%)اور اس کےسودی قرضوں کا تناسب تیس فیصد(30%) سے کم ہو، اس میں بھی حرام آمدن کے تناسب سے صدقہ کرنا ضروری ہوتاہے۔واضح رہےکہ یہ شرح ان شئیرزہولڈر کےلیے رکھی جاتی ہے جنہیں کمپنی کے معاملات میں اختیار نہیں ہوتا، ورنہ کمپنی کے بانیان کےلیے کمپنی کو سودی معاملات سےبالکلیہ پاک رکھنا ضروری ہےاور عام شئیرز ہولڈر کےلیےمذکورہ بالا شرح بتدریج کم کی جارہی ہے،تاکہ کمپنی آہستہ آہستہ سودی معاملات سے مکمل پاک ہوسکے۔
3. کمپنی اگرسودی قرض لیتی ہوتوشیئرزخریدنےوالےپر یہ بھی لازم ہےکہ وہ کمپنی کے اس ناجائز فعل پر عدم رضا مندی کا اظہار کرے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ کمپنی کو خط لکھا جائےجس میں کمپنی کوسودی قرض نہ لینے کی اپیل ہو یا کمپنی کی سالانہ جنرل میٹنگ(AGM) میں سود ی قرض لینےکے خلاف آواز اٹھائی جائےکہ ہم بحیثیت شیئر ہولڈر سودی قرض لینے کی اجازت نہیں دیتے۔
.4 شیئرز کی خریدوفروخت کرتے وقت اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ کمپنی کا اصل کاروبار حلال ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ضمنی طور پر بھی کسی ناجائز کام میں ملوث نہ ہو اور اس ضمنی کام سے حاصل ہونے والی آمدنی کا تناسب اس کی مجموعی آمدنی میں معتد بہ مثلا ً: پانچ فیصد نہ ہو ۔( جیسا کہ اس کی پابندی آج کل کے اسلامی مالیاتی اداروں میں کروائی جارہی ہے(۔
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی، کاکمپنی کے شئیرز کی خریدوفروخت کےحوالےسےتفصیلی موقف ہماری ویب سائٹ"المفتی آن لائن"پر اس لنک" https://almuftionline.com" پر ملاحظہ فرمائیں۔یاد رہےکہ" المفتی آن لائن" پر کمپنی کےساتھ لین دین کے حوالے سے کثیر تعداد میں فتاویٰ موجود ہیں،وہاں سے آپ استفادہ کرسکتےہیں۔
حوالہ جات
(ماخذہ:التبویب،فتویٰ:63111،فتویٰ :74969)
https://almuftionline.com/2021/12/28/6221/
سودی قرضہ لینے والی کمپنی کے شئیرز خریدنے کاحکم
جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
27شعبان المعظم1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


