| 88357 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
مرحومہ پروین امتیاز فوت ہوئی، جس کے ورثہ میں شوہر امتیاز حسین، تین بیٹیاں کنول، کومل اور کرن، ایک بھائی عبد الستار انصاری اور ایک بہن روشن آرا ہیں۔ ترکہ میں ایک گھر ہے، جس کی مالیت ایک کروڑ نوے لاکھ روپے ہیں، جسے بیچ کر ورثہ کو ان کے حصے کے بقدر رقم دی جائے گی۔ 1. مذکورہ ورثہ میں میراث کی تقسیم کس طرح ہوگی؟ 2. مرحومہ کے بہن اور بھائی میراث میں اپنا حصہ نہیں لینا چاہتے، اس کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
- ميت كے ترکہ میں سے سب سے پہلے کفن دفن کے مناسب اخراجات(اگركسی وارث نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیا ہو) نکالے جائیں گے، اس کے بعد مرحومہ کے ذمہ واجب قرض کی ادائیگی کی جائے گی۔اس کے بعد اگر مرحومہ نے وارث کے علاوہ کسی کے لیے وصیت کی ہو تو ترکہ کے ایک تہائی (1/3) تک اس کی وصیت پر عمل کیا جائے گا۔ اس کے بعدباقی ماندہ ترکہ (نقدی، چھوٹابڑا سازوسامان اور جائیداد) مرحومہ کےورثہ میں تقسیم کیا جائے گا۔
لہذا اگر انتقال کے وقت صرف سوال میں مذکور ورثہ ہی ہوں تو کل ترکہ کے 36 حصے بنائے جائیں ، جس میں سے شوہر کو 9 ، ہر بیٹی کو 8 ، بھائی کو 2 اور بہن کو ایک حصہ ملےگا۔فیصدی اعتبار سے شوہر کو 25%،ہر بیٹی کو22.222% بھائی کو 5.555 % اور بہن کو 2.777 %ملےگا۔
- زبانی طور پر دستبردار ہونے سے میراث میں حصہ ختم نہیں ہوتا، البتہ اگر مرحومہ کے بھائی اور بہن اپنے حصے کے عوض باقی ورثہ سے کوئی چیز لے لیں (اگرچہ کم قیمت کی ہو) یا ان کا حصہ طے ہونے کے بعد وہ خود یا وکیل کے ذریعے اپنا حصہ بقیہ ورثہ کے درمیان تقسیم کرکے انہیں قبضہ دلادیں تو یہ شرعاً معتبر ہوگا۔
حوالہ جات
سورة النساء: 12
ﵟوَلَكُمۡ نِصۡفُ مَا تَرَكَ أَزۡوَٰجُكُمۡ إِن لَّمۡ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٞۚ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٞ فَلَكُمُ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡنَۚ مِنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ يُوصِينَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٖۚﵞ.
"تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق" (6/236)
«قال رحمه الله (والأخوات لأب وأم كبنات الصلب عند عدمهن) أي عند عدم البنات وبنات الابن حتى يكون للواحدة النصف، وللثنتين الثلثان، ومع الإخوة لأب وأم للذكر مثل حظ الأنثيين؛ لقوله تعالى: {قل الله يفتيكم في الكلالة إن امرؤ هلك ليس له ولد وله أخت فلها نصف ما ترك وهو يرثها إن لم يكن لها ولد فإن كانتا اثنتين فلهما الثلثان مما ترك وإن كانوا إخوة رجالا ونساء فللذكر مثل حظ الأنثيين} [النساء: 176].»
"تكملة حاشية ابن عابدين" (208/8)
» ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منها ومن حصتي لا يصح وهو على حقه، لان الارث جبري لا يصح تركه اهـ».
"الأشباه والنظائر" (صـ 272)
«لو قال الوارث: تركت حقي لم يبطل حقه؛ إذ الملك لا يبطل بالترك........ كذا في جامع الفصولين للعمادي».
"غمز عيون البصائر شرح الأشباه والنظائر" (3/354)
«قوله: لو قال الوارث: تركت حقي إلخ. اعلم أن الإعراض عن الملك أو حق الملك ضابطه: أنه إن كان ملكا لازما لم يبطل بذلك، كما لو مات عن ابنين فقال أحدهما: تركت نصيبي من الميراث لم يبطل؛ لأنه لازم لا يترك بالترك، بل إن كان عينا فلا بد من التمليك، وإن كان دينا فلا بد من الإبراء.
وله: كذا في جامع الفصولين. يعني في الثامن والثلاثين وعبارته: قال أحد الورثة: برئت من تركة أبي، يبرأ الغرماء عن الدين بقدر حقه؛ لأن هذا إبراء عن الغرماء بقدر حقه، فيصح ولو كانت التركة عينا لم يصح. ولو قبض أحدهم شيئا من بقية الورثة وبرئ من التركة وفيها ديون على الناس: لو أراد البراءة من حصة الدين صح، لا لو أراد تمليك حصته من الورثة؛ لتمليك الدين ممن ليس عليه».
"الفتاوى العالمكيرية" (474/6)
» ومن صالح من الغرماء أو الورثة على شيء من التركة فاطرحه كأن لم يكن ثم اقسم الباقي على سهام الباقين مثاله: زوج، وأم، وعم، صالح عن نصيبه من التركة على ما في ذمته من المهر فاطرحه كأنها ماتت عن أم وعم، فاقسم التركة بينهما للأم الثلثان، والباقي للعم كذا في الاختيار شرح المختار».
محمد انس جمال
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
13 صفر 1447 ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | انس جمال بن جمال الدین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


