03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پسند کی شادی اور گواہوں کی شرعی حیثیت
88834نکاح کا بیاننکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں

سوال

السلام علیکم!

پسند کی شادی ہو نکاح کے وقت اگر میاں بیوی،نکاح خواں اور 1 مرد اور 1 خاتون ہو،توکیا نکاح ہو جاتا ہے

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگریہ نکاح غیرکفو(غیرہم پلہ مرد)کےساتھ ہےپھرتومنعقدہی نہیں ہوگا،اگر ہم پلہ مردکے ساتھ ہےتوچونکہ نصاب شہادت ایک مرد اور نکاح خواں  موجودہے لہذایہ نکاح منعقد ہوجائےگا(ایک عورت کی گواہی کا اعتبار نہیں ہے)۔

تاہم والدین کی اجازت کے بغیر اس طرح نکاح کرنابہت سارےمفاسد کوجنم دیتاہےلہذاس  طرح کرنے سے پرہیز کرناچاہئے۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين(3/ 9):

(وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر.

الهداية في شرح بداية المبتدي(1/ 191):

وينعقد نكاح الحرة العاقلة البالغة برضاها وإن لم يعقد عليها ولى بكرا كانت أو ثيبا عند أبي حنيفة وأبي يوسف" رحمهما الله "في ظاهر الرواية.

الهداية في شرح بداية المبتدي(1/ 185):

ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضورشاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين عدولا كانوا أو غير عدول أو محدودين في القذف.

حاشية ابن عابدين=ردالمحتارط الحلبي(3/ 56):

(ويفتى) في غير الكفء(بعدم جوازه أصلا) وهوالمختار للفتوى (لفساد الزمان).

عزیزالرحمن

 دارالافتاءجامعۃ الرشید کراچی

04/جماد ی الاولی/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عزیز الرحمن بن اول داد شاہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب