03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ولد الزنا سے نکاح کا حکم
89254نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

ایک شخص زنا کر تا ہے اسی زنا سے اسکا ایک لڑکا  پیدا ہوتا ہے ۔ کیا اس لڑکے  کے ساتھ نکاح جائز ہے؟ پھر یہ ولد الز نا شادی کرتا ہے تو کیا اسکی آنے والی اولاد بھی نطفہ ِ حرام مانی جائے گی اس اولاد کو بھی نا جائز اولاد مانا جائے گا جو اس دادا کے پوتے ہوں گے جو نکاح کے بعد پیدا ہوئے اور کیا اس اولاد کے ساتھ نکاح جائز ہو گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 واضح رہے زنا کا گناہ اور اس کا وبال زانی اور زانیہ پر ہوگا ،ان کے زنا کی وجہ سے ولد الزنا گناہ گار نہیں ہوگا  ۔اگر کوئی اپنی بیٹی کا نکاح  بیٹی کی اجازت سے اس ولد الزنا سے کرتا ہے  تو  یہ نکاح کرنا درست ہوگا)البتہ یہ  نیک اور شریف لڑکی کا کفو اور برابر درجہ    کا نہیں  (اور اس نکاح کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد کو نا جائز اولا د نہیں کہا جائے گا ،اور ان کے ساتھ  بھی نکاح درست ہوگا ۔

حوالہ جات

تفسیر الآلوسی ،)فاطر 18آیہ(:

ولا تزر وازرة﴾ أي لا تحمل نفس آثمة ﴿وزر أخرى﴾ أي إثم نفس أخرى، بل تحمل كل نفس وزرها.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي )(3/ 84🙁

الكفاءة معتبرة) في ابتداء النكاح للزومه أو لصحته (من جانبه) أي الرجل لأن الشريفة تأبى أن تكون فراشا للدنيء ولذا (لا) تعتبر (من جانبها) لأن الزوج مستفرش فلا تغيظه دناءة الفراش وهذا عند الكل في الصحيح.

سلیم اصغر بن محمد اصغر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

18/جمادی الثانیہ  /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سلیم اصغر بن محمد اصغر

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب