03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
موسیقی کاحکم
88466جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

موسیقی کے بارے میں اسلام میں کیا حکم دیا گیاہے؟کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام موسیقی سننا پسند کرتے تھے؟شادی بیاہ کے موقع پرخوشی کے طور پر ڈھول بجایا جاتا ہے ۔کیا ایسا کرنا اسلام کے حکم کے خلاف ہے یا اجازت دی گئی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

میوزک اور موسیقی ناجائز اور حرام ہے اور یہ بات قرآن و حدیث کی نصوصِ صحیحہ اور حضرات آئمہ کرام رحمہم اللہ کے اجماع  سے ثابت ہے، جس سے موسیقی کی حرمت اور ممانعت میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا، چنانچہ موسیقی کی حرمت کے بارے میں چند  ایک دلائل مندرجہ ذیل ہیں:

صحیح بخار شریف (106/7) کی روایت میں ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

لیکونن من أمتی أقوام یستحلون الحر والحریر والخمر والمعازف‘‘

یعنی میری امت میں کچھ لوگ پیدا ہوں گے جو زنا ، ریشم، شراب اور راگ باجوں کو حلال قرار دیں گے۔

مسند البزار (14/ 62، رقم الحدیث)میں ہے:

حدثنا شبيب بن بشر البجلي، قال: سمعت أنس بن مالك يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: صوتان ملعونان في الدنيا والآخرة: مزمار عند نعمة ورنة عند مصيبة.

ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو آوازیں دنیا اور آخرت میں ملعون ہیں: خوشی اور نعمت کے وقت بانسری کی آواز اور مصیبت کے وقت رونے کی آواز۔

سنن ابن ماجه (5/ 151) میں ہے:

’’لیشربن الناس من أمتی الخمر یسمونھا بغیر اسمھا یعزف علی رؤسھم بالمعازف والمغنیات یخسف اللّٰہ بھم الارض ويجعل منهم القردة والخنازير الخ.

موسیقی کی حرمت کے بارے میں بھی روایات بکثرت منقول ہیں، شاید اسی وجہ سے اس  کی حرمت پر امت کے فقہائے کرام  رحمہم اللہ کا اتفاق اور اجماع ہے۔

شادی کےموقع پر ڈھول بجانا ناجائز اور حرام ہے، جبکہ دف بجانے کی مشروط اجازت ہے،شرائط یہ ہیں:

1۔ دف گنگرو کے بغیر ہو ۔

2۔بجانے والے بھی عورتیں ہوں اورعورتوں کے سامنے بجائیں نہ کہ مردوں کے سامنے۔

3۔ موسیقی کے کسی خاص دھن یا ساز پر نہ بجایا جائے۔

4۔ کسی فتنے یا ناجائز امر کا ذریعہ بھی نہ بنے۔

5۔نکاح   جیسے موقع پر اس کی مختصرا اجازت ہے۔

حوالہ جات

البحر الرائق منحة الخالق(7/ 88) :

ونقل البزازي في المناقب الإجماع على حرمة الغناء إذا كان على آلة كالعود، وأما إذا كان بغيرها فقد علمت الاختلاف ولم يصرح الشارحون بالمذهب وفي البناية والعناية التغني للهو معصية في جميع الأديان۔

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح (ص: 319):

وأما الرقص والتصفيق والصريخ وضرب الأوتار والصنج والبوق الذي يفعله بعض من يدعي التصوف فإنه حرام بالإجماع لأنهازي الكفار كما في سكب الأنهر۔

فتح المغيث بشرح ألفية الحديث (1/ 350):

إذا تلقت الأمة الضعيف بالقبول يعمل به على الصحيح، حتى إنه ينزل منزلة المتواتر في أنه ينسخ المقطوع به ولهذا قال الشافعي - رحمه الله - في حديث: «لا وصية لوارث» : إنه لا يثبته أهل الحديث، ولكن العامة تلقته بالقبول، وعملوا به حتى جعلوه ناسخا لآية الوصية له.

المحيط البرهانى (8 / 282):

اختلف الناس في ضرب الدف في العرس قال بعضهم: لا بأس لما روي عن عائشة رضي الله عنها  أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «أعلنوا النكاح، واجعلوه في المساجد، واضربوا عليه بالدفوف» ۔۔۔۔۔وقال بعضهم: يكره لقوله عليه السلام: «كل لهو المؤمن باطل إلا ثلاث؛ تأديبه فرسه ورميه عن قوسه وملاعبته مع أهله» قال الفقيه أبو الليث رحمه الله: الدف الذي يضرب في زماننا هذا مع الصنجات والخلاخلات ينبغي أن يكون مكروهاً، وإنما الخلاف في الذي كان يضرب في الزمن المتقدم.

رد المحتار  (22 / 201):

(قوله ضرب الدف فيه ) جواز ضرب الدف فيه خاص بالنساء لما في البحر عن المعراج بعد ذكره أنه مباح في النكاح وما في معناه من حادث سرور .قال : وهو مكروه للرجال على كل حال للتشبه بالنساء

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

02/ ربیع الاول 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب