03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کے صریح الفاظ کے بعد بولے گئے کنایہ الفاظ کا حکم
88292طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

شوہر نے بیوی سے کا ل پربات کرتے ہوئے غصے میں  پہلے کہا :"طلاق می درلہ درکڑو"(طلاق دے دی)،پھر کچھ وقفے سے کہا :"تم اب میری بیوی نہیں ،تم عدالت جاسکتی ہو،مجھ سے فارغ ہو"،ان جملوں کی کال ریکارڈنگ بھی موجود ہے۔

نیز یہ سارے جملے اس نے غصے اور لڑائی کی کیفیت میں بولے ہیں اور شوہر کے بقول اس کی طلاق دینے کی نیت نہیں تھی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

طلاق صریح کے بعد جب ایسے کنایہ الفاظ بولے جائیں جن میں سابقہ صریح طلاق کی توضیح،تفسیر اور اس کے حکم کے بیان کا احتمال موجود ہو اور شوہر نے ان الفاظ سے دوسری طلاق کی نیت نہ کی ہو تو ایسی صورت میں ایک بائن طلاق واقع ہوتی ہے۔("امداد المفتین":2/ 523)

مذکورہ صورت میں شوہر کے پہلے جملے سے ایک رجعی طلاق واقع ہوئی ہے،کیونکہ صریح الفاظ سے بغیر نیت کے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے،جبکہ اس کے بعد کہے گئے جملوں(تم اب میری بیوی نہیں،تم عدالت جاسکتی ہو،مجھ سے فارغ ہو) سے سابقہ رجعی طلاق بائن بن گئی،کیونکہ ان جملوں سے  شوہر کی  مزیدطلاقیں دینے کی نیت نہیں تھی۔

لہذا مذکورہ صورت میں ایک بائن طلاق واقع ہوئی ہے،جس کا حکم  یہ ہے کہ اگر میاں بیوی دوبارہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونا چاہیں تو باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا اور تجدیدِ نکاح کے بعد شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔

حوالہ جات

"البحر الرائق " (9/ 302):

"قوله : ( أنت طالق بائن أو ألبتة أو أفحش الطلاق أو طلاق الشيطان أو البدعة أو كالجبل أو أشد الطلاق أو كألف أو ملء البيت أو تطليقة شديدة أو طويلة أو عريضة فهي واحدة بائنة إن لم ينو ثلاثا ) بيان للطلاق البائن بعد بيان الرجعي وإنما كان بائنا في هذه لأنه وصف الطلاق بما يحتمله وهو البينونة فإنه يثبت به البينونة قبل الدخول للحال وكذا عند ذكر المال وبعده إذا انقضت العدة وأورد عليه أنه لو احتمل البينونة لصحت إرادتها بطالق ، وقد قدمنا عدم صحتها وأجيب بأن عمل النية في الملفوظ لا في غيره ولفظ بائن لم يصر ملفوظا به بالنية بخلاف طالق بائن ، وفيه نظر مذكور في فتح القدير

 قيد بكون بائن صفة بلا عطف لأنه لو قال : أنت طالق وبائن أو قال أنت طالق ثم بائن وقال لم أنو بقولي بائن شيئا فهي رجعية ولو ذكر بحرف الفاء ، والباقي بحاله فهي بائنة كذا في الذخيرة وأفاد بقوله فهي واحدة إن لم ينو ثلاثا أنه لو نوى ثنتين لا يصح لكونه عددا محضا إلا إذا عنى بأنت طالق واحدة وبقوله بائن أو ألبتة أو نحوهما أخرى يقع تطليقتان بناء على أن التركيب خبر بعد خبر وهما بائنتان لأن بينونة الأولى ضرورة بينونة الثانية إذ معنى الرجعي كونه بحيث يملك رجعتها وذلك منتف باتصال البائنة الثانية فلا فائدة في وصفها بالرجعية وكل كناية قرنت بطالق يجري فيها ذلك".

"خلاصة الفتاوی"(9/ 302):

"وفی الفتاوی لوقال لامراتہ انت طالق ثم قال للناس زن من حرام ست وعنی بہ او لانیة لہ فقد جعل الرجعی بائنا وان عنی بہ الابتداء فھی طلاق آخر بائن ".

"الدر المختار " (3/ 409):

"(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

04/صفر1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب