| 88794 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
ایک عالمی این جی او ہے،اس کوچلانے والے ضلعی سطح کے نمائندے،مقامی ایک آدمی سے ڈیل کرتے ہیں کہ مستحق افراد کے نام ولدیت مہیا کرو تاکہ ڈیٹا مرتب ہو جائے اور ان افراد کے نام مختلف کیٹگریز میں شامل کر کے کیس مرتب کرتے ہیں، پانچ لاکھ کے کیس میں پچاس ہزار ایڈوانس لیتے ہیں اوربقایاپچاس ہزار،پانچ لاکھ کا چیک موصول ہونے کے بعد لیتے ہیں،اس طرح پانچ لاکھ کے کیس میں ایک لاکھ کی ڈیل کرتے ہیں اور پانچ لاکھ کا چیک نامزد فرد کے نام جاری کرتے ہیں، جسے وہ کیش کروا کر این جی او کے نمائندے کو حسب ڈیل رقم واپس دیتے ہیں،اس طرح ایک کڑور کے کیس کیلئے دس لاکھ حسب ترتیب بالا، رقم ایڈوانس لیتے ہیں اور دس لاکھ چیک موصول ہونے پر لیتے ہیں،این جی او کی ریکوائر منٹ کے مطابق افراد کے نام ،ولدیت دی جاتی ہے اور کیس تیار ہوتے ہیں،یہ تو ہے حقیقی صورت حال۔صورت مسئولہ یہ ہےکےایک مستحق آدمی کی پہنچ نہیں کہ وہ یہ رقم این جی او کے نمائندے کو دے کر اپنا کیس تیار کروائے اور اس طرح کے حیلے سے این جی او کی رقم حاصل کر کے اپنے استعمال میں لاتا ہے کیا اس طرح کے حالات میں جبکہ این جی او تک رسائی نہیں تو کیا ان درمیانی واسطوں کو رقم دے کر بقایا رقم اپنے استعمال میں لانا درست ہو گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
(1)آپ کے سوال کا اصولی جواب یہ ہے کہ این جی او کی پالیسی کے مطابق ان سے پیسے لینا شرعاً جائز ہے،بشرطیکہ کسی قسم کی دھوکہ دہی یا غلط بیانی سے کام نہ لیا جائے،نیز مذکورہ این جی او اپنے فلاحی پروجیکٹس کے ذریعے کسی قسم کی ملک دشمن یا اسلام دشمن سرگرمیوں کا حصہ نہ ہو،مثلاً فلاحی کاموں کی آڑ میں کسی دشمن ملک کی جاسوسی یا سہولت کاری نہ کر رہی ہو،اسی طرح دین اسلام سے لوگوں کو متنفر کرکے ملحد یا غیر مسلم نہ بنا رہی ہو یا بے حیائی وغیرہ کے پھیلانے کا ذریعہ نہ بن رہی ہو ۔
(2)سوال میں مذکور تفصیل کے مطابق این جی او کی طرف سے مقرر نمائندے،اپنی سہولت کے لیے مقامی کسی شخص کی خدمات حاصل کرتے ہیں،اور وہ شخص این جی او کی پالیسی کے مطابق مستحق افراد کا ڈیٹا اکٹھا کرکے دیتا ہے اور پھر ان مستحق افراد کے لیے جتنے پیسے این جی او جاری کرتی ہے،اس میں سے ایک مخصوص حصہ اپنے پاس رکھ لیتا ہے اور بقیہ پیسے مستحق کو دے دیتا ہے،اگر حقیقی صورت حال یہی ہے تو ایسی صورت میں مستحق شخص کے لیے نمبر ایک میں بیان کردہ تفصیل کے مطابق پیسے استعمال کرنا درست ہے،البتہ بیچ میں جو ایجنٹ ہے اس کے لیے زبردستی اپنا کمیشن لینا جائز نہیں ہے،ہاں یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے کہ وہ مستحق افراد سے یہ طے کرلے کہ میں آپ کی طرف سے این جی او کی پالیسی کے مطابق (حقائق پر مبنی)ڈاکومینٹیشن وغیرہ کی خدمات سرانجام دوں گا اوراس کے نتیجے میں اگر آپ کو این جی او کی طرف سے پیسے ملے تو آپ کو ملنے والے پیسوں کا اتنےفیصد کمیشن لوں گا۔البتہ یہ کمیشن سوال میں مذکور تفصیل کے مطابق تقریباً دس فیصد ہے، جو بہت زیادہ معلوم ہوتا ہے،اس لیے معقول کمیشن طے کیا جائے ،جو عام طور پر دو یا تین فیصد سے زیادہ نہیں ہوتا،پھر اگر وہ مستحق افراد بھی اس طرح معاملہ کرنے پر رضامندی کا اظہار کریں تو ایجنٹ کے لیے کمیشن لینا جائز ہوگا ورنہ نہیں۔نیز چونکہ ایجنٹ کی ضرورت این جی کو بھی ہے ،لہٰذا ایجنٹ کو چاہیے کہ اپنی خدمات کے عوض کا سارا بوجھ مستحقین پر نہ ڈالے بلکہ این جی او سے بھی اپنے عوض کا بعض حصہ لے اور اس کے بقدر مستحقین پر بوجھ کم کرے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 61)
لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.
حاشية رد المحتار (6/348)
مطلب في أجرة الدلال تتمة: قال في التاترخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم.
وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به، وإن كان في الاصل فاسدا لكثرة التعامل، وكثير من هذا غير جائز فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام.
العناية شرح الهداية (6/ 383)
الجعل بالضم ما جعل للإنسان من شيء على شيء يفعله ، وكذلك الجعالة بالكسر .
الموسوعة الفقهية الكويتية (1/ 253)
الجعالة:
تفترق الإجارة عن الجعالة في أن الجعالة إجارة على منفعة مظنون حصولها ولا ينتفع الجاعل بجزء من عمل العامل وإنما بتمام العمل ، وأن الجعالة غير لازمة في الجملة.
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
29.ربیع الثانی1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


