03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شرحِ نفع متعین کیے بغیر شراکت داری کا حکم
88793شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ محمد اختر علی اور فاروق شاہ نے ایک مشترکہ کام شروع کیا جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے؛

1۔اختر علی نے فاروق شاہ کو سترہ لاکھ روپے (1700،000) کیش دیے،جس میں سےتین لاکھ روپے فاروق شاہ کے تھےاور 14 لاکھ روپے اختر علی کے تھے،ان پیسوں سے فاروق شاہ نے پلانٹ لگایا اور اس سے ہٹ کر فاروق شاہ صاحب کا پانی کا سیٹ اپ بھی تھا، جس کی مالیت تقریباً چار لاکھ روپے تھی، یہ سیٹ اپ بھی شراکت میں شامل تھا۔

2۔ فاروق شاہ کے پاس دو عدد سوزوکیاں خستہ حالت میں موجود تھیں [یہ بھی فاروق شاہ کی طرف سے شراکت داری کے کل سیٹ اپ کا حصہ تھیں] ،جنہیں مشترکہ پیسوں سے قابل استعمال بنایا گیا اور کام کی ترتیب یہ تھی کہ ایک بڑے ٹینک میں بڑا ٹینکر ڈالا جاتا اور اس ٹینک کے پانی سے سوزوکی میں سپلائی اورفلٹر پانی دونوں کام ہوتے تھے۔

3۔ کچھ عرصہ بعد فاروق شاہ چلے میں 40  یوم کے لیے چلے گئے تو اختر علی نے کام سنبھالا ،معلوم ہوا کہ فاروق شاہ روزانہ اپنے اور اپنے بھائی کے گھر پانی ڈلواتا تھا، تقریباًتین سوزوکی اور اس کا معاوضہ بھی نہیں ادا کرتا تھا تو اختر علی نے فاروق شاہ سے کہا کہ جب ہر چیز طے ہے،تم جگہ کا  کرایہ بھی وصول کرتے ہو توپانی کی قیمت کیوں ادا نہیں کرتے؟جس پر فاروق شاہ اور اختر علی کے درمیان معاملات خراب ہو گئے (اس کاروبار سے ماہانہ 2 لاکھ روپے منافع ہورہا تھا) ۔اختر علی نے فاروق شاہ سے مطالبہ کیا کہ میرے چودہ لاکھ روپے واپس کر دو، میں مزید کام نہیں کرنا چاہتا، جس پر فاروق شاہ نے کہا کہ میرے پاس اتنا کیش نہیں ہے ۔اختر صاحب نے ایک رائے دی کہ میری جگہ دوسرا پارٹنر رکھ لو اور میرا راس المال واپس کر دو اور اختر صاحب نے 14 ماہ مسلسل کوشش کرکے پارٹنر بھی ڈھونڈا لیکن فاروق شاہ راضی نہ ہوا، اس عرصے میں فاروق شاہ نے کاروبار کو وقت دینا بھی کم کر دیا اور گاؤں بھی گئے اور کاروبار اختر صاحب سنبھالتے رہے،اکیلے ہونے کی وجہ سے ڈرائیور رکھا،کچھ عرصے بعد ڈرائیور بھاگ گیاتو فاروق شاہ نےسوزوکی چلانا شروع کردی اور ڈرائیور کی تنخواہ بھی وصول کرنے لگے، اخترصاحب نے کہا کہ گاڑی تو میں نے بھی چلائی ہے لیکن میں نے تو اجرت نہیں لی،آپ کیوں لے رہے ہیں؟ جس پر فاروق شاہ نے کہا کہ یہ اصول ہے، اس بات پراختر علی صاحب نے کہا کہ یہ اگر اصول ہے تو پھرجتنا وقت میں نے گاڑی چلائی تو اس کا بھی حساب کرو اور اصولاً تو یہ ہونا چاہیے کہ میرے پیسے توزیادہ لگے ہیں تو مجھے منافع بھی زیادہ دو،اور جو ہمارا پرانا مشترکہ کاروبار تھااس میں میرے پندرہ لاکھ اور تمہارے تین لاکھ لگے ہوئے تھے،اس کا بھی حساب کرو،اور روزانہ تین سوزوکی پانی استعمال کرتے تھےاور 19 ماہ 15 دن تک کرتے رہے،اس کا بھی حساب کرو اور اس عرصے کے دوران میں نے تقریباً 19 یا 20 سوزوکی پانی استعمال کیا ہے اس کا بھی حساب لے لو۔

تقریباً دس ماہ پہلے فاروق صاحب اپنے گاؤں گئے تو اختر صاحب نے اکیلے کاروبار سنبھالا،ماہانہ دو لاکھ منافع ہوا،جس میں سے ایک لاکھ فاروق صاحب کو بھجوایا تھا۔گاؤں سے واپس آنے کے بعد فاروق صاحب نے کاروبار سنبھالا تو ایک ماہ میں 36 ہزار منافع کمایا ،جس پر اختر صاحب نے کہا یہ بہت کم ہے اور چیلنج کیا کہ کام میں سنبھالتا ہوں  اور اسٹامپ پیپر پر لکھ کر دوں گا اگر دو لاکھ سے کم منافع کمایا تو میں اپنے 14 لاکھ روپے تمہیں دے دوں گا،واپسی کا مطالبہ نہیں کروں گا  لیکن فاروق بھائی نہ مانے اور تقریباً 8 ماہ میں صرف ایک لاکھ منافع دیا ہے جو کہ کم ہے یا تو ایک لاکھ روپے کے حساب سے منافع دے یا پھر قرآن کریم کی قسم اٹھائے،نیز مذکورہ بالا کاروبار کو ختم کرنے کا شرعی طریقہ کیا ہوگا اور ہر ایک کو اصل رقم اور نقصان میں سے کتنا حصہ ملے گا؟

تنقیحات:

  1. سائل نے فون پر بتایا کہ اختر علی نے 14 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی اور فاروق شاہ کی طرف سے تین لاکھ روپے،نیز پہلے سے موجود پلانٹ اور اس سے متعلق دیگر اشیاء کی مالیت جو کہ 4 لاکھ روپے تھی،کی سرمایہ کاری کی گئی تھی۔
  2. دوستی کا تعلق ہونے کی وجہ سے ابتداء میں نفع کے حوالے سے کچھ بھی طے نہیں ہوا تھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عقد شرکت(Partnership Contract) کے صحیح ہونے کی شرائط میں سے یہ شرط بھی ہے کہ شرکاء کے درمیان نفع کی شرح طے ہو،چنانچہ اگر نفع کی شرح طے نہ کی گئی ہو تو عقد شرکت فاسد ہوجاتا ہے۔

سؤال میں مذکور تفصیلات اور تنقیحات کے مطابق مذکورہ معاملے میں ابتداء سے ہی شرکاء کے درمیان نفع کی شرح طے نہیں ہوئی تھی،لہٰذا شرکت کا مذکورہ معاملہ ابتدا سے ہی فاسد تھا۔

ایسے عقد فاسد کا حکم یہ ہے کہ اس میں نفع کی تقسیم ہر ایک کے سرمایہ کے تناسب سے ہوتی ہے،لہٰذا مذکورہ سؤال کے مطابق چونکہ فاروق شاہ صاحب کی طرف سےکل اکیس لاکھ روپے مالیت کے کاروبار میں 7 لاکھ روپے یعنی  33.3333 فیصد سرمایہ کاری کی گئی تھی تو وہ کل نفع میں سے 33.3333 فیصد نفع کے حقدار ہوں گے اور اختر علی صاحب کی طرف سے چودہ لاکھ روپے یعنی 66.6666 فیصد سرمایہ کاری کی گئی تھی تو وہ کل نفع میں سے 66.6666 فیصد نفع کے حقدار ہوں گے۔مذکورہ تفصیل کے مطابق آج تک ہونے والے نفع کی تقسیم کا حساب کرلیں اور اگر کسی شریک کے پاس اس کے حق سے زیادہ چلا گیا ہو تو وہ دوسرے شریک کو واپس لوٹا دے۔

            رہی بات کاروبار کو ختم کرنے کی تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ کاروبار کے موجودہ تمام اثاثوں کو بیچ دیا جائے اور اس سے حاصل ہونے والی رقم آپس میں سرمایہ کاری کے تناسب سے تقسیم کرلی جائے ۔یہ صورت بھی اختیار کی جاسکتی ہے کہ موجودہ حالت میں کاروبار کی مستندقیمت لگوائی جائے اور شرکاء میں سے کوئی ایک اس قیمت کے عوض سارا کاروبار خرید لے،اور دوسرے شریک کو اس کے حصے کے بقدر رقم ادا کردے۔

مثال کے طور پر فرض کرلیں کہ ایک لاکھ روپے کیش کی صورت میں ہیں اور کسی تیسرے شخص کو کاروبار سے متعلق تمام اثاثہ جات وغیرہ15 لاکھ روپے میں بیچ دیےیا شرکاء میں سے کسی ایک نے خرید لیے۔ایسی صورت میں کل 16 لاکھ روپے حاصل ہوئے،اب 16 لاکھ میں سے 33.3333 فیصد یعنی 533,332 روپے تقریباً، فاروق شاہ کے حصے میں آئیں گے اور بقیہ 66.6666 فیصد یعنی 1,066,665 روپےاختر علی صاحب کے حصے میں آئیں گے۔

سوال میں مذکور تین معاملات سے متعلق مزید وضاحت درج ذیل ہے؛

1۔مشترکہ پانی میں سے جو پانی ایک شریک نے دوسرے کی اجازت کے بغیر لیا ہے وہ اس پانی میں سے دوسرے شریک کے حصے کے بقدر قیمت کا ذمہ دار ہوگا،یعنی یا تو دوسرے شریک کو اس کے حصے کی  قیمت ادا کرے یا اس قیمت کے عوض اپنا حصہ چھوڑ دے۔مثلاً فاروق شاہ صاحب نے ایک لاکھ روپے کا پانی بغیر اجازت استعمال کیا تو چونکہ اس مشترکہ پانی میں تقریباً 33.3333 فیصد کے مالک تو وہ خود تھے،لہٰذا اس کا عوض ان پر لازم نہیں ہوگا البتہ 66.6666 فیصد کے مالک اختر علی صاحب تھے،جن کا حصہ فاروق شاہ صاحب نے بغیر اجازت استعمال کیا ہے تو ایک لاکھ میں سے تقریباً 66,666 روپےادائیگی کے وہ ذمہ دار ہوں گے۔

2۔سوزوکی چونکہ فاروق شاہ صاحب کی طرف سے سرمایہ کاری کا حصہ تھی تو اس کا کرایہ الگ سے فاروق شاہ صاحب کو نہیں ملے گا۔

3۔جس شریک نے جتنا عرصہ سوزوکی بطور ڈرائیور چلائی اس عرصے کی اجرت کا استحقاق نہیں ہوگا۔اس لیے کہ منفعت بغیر عقد کے متقوم نہیں بنتی نیز شریک کو بطور اجیر یعنی ملازم رکھنے کا شرعی طریقہ کار بھی مذکورہ عقد میں نہیں پایا گیا۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 59)

فصل في بيان شرائط جواز أنواع الشركة

(ومنها) : أن يكون الربح معلوم القدر، فإن كان مجهولا ،تفسد الشركة؛ لأن الربح هو المعقود عليه، وجهالته توجب فساد العقد كما في البيع والإجارة.

رد المحتار (23/ 348)

ومن شروطها : كون نصيب المضارب من الربح حتى لو شرط له من رأس المال أو منه ومن الربح فسدت ، وفي الجلالية كل شرط يوجب جهالة في الربح أو يقطع الشركة فيه يفسدها ، وإلا بطل الشرط وصح العقد اعتبارا بالوكالة.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 326)

والربح في الشركة الفاسدة بقدر المال، ولا عبرة بشرط الفضل.

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (3/ 323)

(والربح في الشركة الفاسدة بقدر المال وإن شرط الفضل) لأن الأصل أن الربح تبع للمال كالريع وإنما عدل عنه عند صحة التسمية ولم تصح فيبطل شرط التفاضل لأن استحقاقه بالعقد فيكون فيه تقرير الفساد وهو واجب الرفع.

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (2/ 467)

(ولا يضمن) الغاصب (منافع ما غصبه سواء سكنه) أي فيما غصبه (أو عطله) أي جعله معطلا هذا عندنا وعند الشافعي وأحمد يضمن فيجب أجر المثل؛ لأنها مال متقوم مضمونة بالعقود كالأعيان وعند مالك يضمن الأجر في السكنى لا في التعطيل ولنا أن عمر وعليا - رضي الله تعالى عنهما - حكما بوجوب قيمة ولد المغرور وحريته ورد الجارية مع عقرها على المالك ولم يحكما بوجوب أجر منافع الجارية والأولاد مع علمهما أن المستحق يطلب جميع حقه وأن المغرور كان يستخدمها مع الأولاد ولو كان ذلك واجبا له لما سكتا عن بيانه بوجوبه عليهما ولعدم المماثلة بين المنافع والدراهم لانعدام البقاء في المنافع فلا يكون تقومها لذاتها بل لضرورة عند ورود العقد ولا عقد هنا.

(المعیار الشرعی رقم(۱۲)الشرکۃ (المشارکۃ) والشرکات الحدیثۃ)

۳/۱/۳/٤ لا يجوز تخصيص أجر محدد في عقد الشركة لمن يستعان به من الشركاء في الإدارة أو في مهمات أخرى مثل المحاسبة، ولكن يجوز زيادة نصيبه من الأرباح على حصته في الشركة.

۳/۱/۳/۵ يجوز تكليف أحد الشركاء بالمهمات المذكورة في البند (٣ / ١ / ٣ / ٤ ) بعقد منفصل عن عقد الشركة بحيث يمكن عزله دون أن يترتب على ذلك تعديل عقد الشركة أو فسخه، وحينئذ يجوز تخصيص أجر محدد له.

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

10.جمادی الاولیٰ1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب