03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وقف مدرسہ کو ذاتی استعمال میں لانے کاحکم
90159وقف کے مسائلمدارس کے احکام

سوال

: کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے والد صاحب نے ہماری ہمشیرہ کو جو کہ عالمہ ہے ،دو کنال اراضی پر لڑکیوں کا مدرسہ تعمیر کر کے دیا جو کہ جامعہ عائشہ صدیقہ للبنات کے نام سے وقف فی سبیل اللہ ہے ،قانونی اور کاغذی کاروائی میں بھی یہ جگہ وقف ہے ،مدرسے کے ساتھ ہی ہمشیرہ کو الگ رہائش بھی بنا کر دی ،اب والد صاحب کی وفات کے کافی عرصے بعد اس نے کچھ مدرسہ ذاتی رہائش میں شامل کر لیا اور کافی حصہ مدرسے کا کرائے پر دے دیا، اور مدرسے میں بچیوں کی تعداد بھی نہ ہونے کے برابر ہے بلکہ مدرسے کوہی  ختم  کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ کیا وقف شدہ حصہ وہ اپنی ذاتی رہائش کے لیے استعمال کر سکتی ہے اور کرائے کے مقاصد کے لیے بھی وہ استعمال کر سکتی ہے کہ نہیں ؟کیونکہ اگر اسے نہیں روکا گیا تو یہ سارا مدرسہ ذاتی مقاصد یعنی کرائے وغیرہ کے لیے استعمال کر ے گی ، تو علماء کرام سے گزارش ہے کہ ہمیں اس کا تحریری فتوی جاری فرمائیں ۔جزاک اللہ خیرا

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ جو چیز وقف کی جائے توموقوفہ چیز قیامت تک کے لیےواقف کی ملکیت سے  نکل کر اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں داخل ہوجاتی ہے، اس کے بعد اس کی خرید وفروخت کرنا، ہبہ کرنا، کسی کو مالک بنانا  اور اس کو وراثت میں تقسیم کرنا یا اس سے کسی بھی قسم کا ایسا فائدہ اٹھانا جو وقف کی جہت کے خلاف ہو جائز نہیں ،واقف نے موقوفہ چیز کو  جس جہت اور مقصد کے لیےوقف کیا  ہو اس کو اسی مقصد کے لیے استعمال کرنا ضروری ہوتا ہے۔

 صورت مسئولہ میں  آپ کے والد صاحب نےمذکورہ زمین پر عمارت بنا کر مدرسہ کے لیے وقف کردیا ہے تو یہ جگہ اب مدرسہ ہی کےلیے وقف ہوگئی ہے جسے صرف مدرسہ کی مصالح کےلیے استعمال کیا جاسکتا ہے،لہذا   آپ کی ہمشیرہ کا  اس مدرسہ کی عمارت  کو ذاتی استعمال میں لانا یا اس کو کرایہ پر دے کرا س کی  آمدنی خود استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔

البتہ اگر آپ کی ہمشیرہ مدرسہ کی مصلحت کی خاطر  مدرسہ کی عمارت  کا کچھ حصہ کرایہ پر دےتاکہ حاصل شدہ کرایہ کو مدرسہ پر خرچ کیا جائےتوایسی صورت میں مدرسہ کی عمارت کو کرایہ پر دینا جائز ہے،بشرطیکہ اس کا کرایہ عرف کے مطابق طے کیا جائے،  لوگوں میں معروف کرایہ سے کم طے نہ کیا جائے، کیونکہ وقف کی پراپرٹی لوگوں کے عرف سے کم کرایہ پر دینا جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات

وفی الفتاوى الهندية (2/ 350):

وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد، فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث، كذا في الهداية. وفي العيون واليتيمة: إن الفتوى على قولهما، كذا في شرح أبي المكارم للنقاية"

وفی الفتاوى الهندية (2/ 401):

ولو كان الوقف مرسلا لم يذكر فيه شرط الاستبدال لم يكن له أن يبيعها ويستبدل بها وإن كانت أرض الوقف سبخة لا ينتفع بها كذا في فتاوى قاضي خان وقد اختلف كلام قاضي خان ففي موضع جوزه للقاضي بلا شرط الواقف حيث رأى المصلحة فيه، وفي موضع منعه منه ولو صارت الأرض بحال لا ينتفع بها والمعتمد أنه يجوز للقاضي بشرط أن يخرج عن الانتفاع بالكلية وأن لا يكون هناك ريع للوقف يعمر به وأن لا يكون البيع بغبن فاحش كذا في البحر الرائق وشرط في الإسعاف أن يكون المستبدل قاضي الجنة المفسر بذي العلم والعمل كذا في النهر الفائق۔

صدام حسین 

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی 

۷/ذی القعدہ /۱۴۴۷ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

صدام حسین بن ہدایت شاہ

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب