| 88519 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
والد صاحب (حاجی معین الدین)کی وفات کے وقت ان کے ورثا میں سات بیٹے،تین بیٹیاں،ایک بیوہ،والدہ اور ساس زندہ تھے،جبکہ والدہ کی وفات کے وقت دو بھائیوں کا انتقال ہوچکا تھا۔
مرحوم والد کے ورثا کے نام درج ذیل ہیں :
1۔بیوی کا نام زینب
2۔والدہ کا نام فاطمہ
3۔ بیٹوں کے نام :محمدحنیف،محمداشرف،محمدعلی،محمدحسین،محمدخالد،عبدالرحمن،عبداللہ
4۔بیٹیوں کے نام: رقیہ،کلثوم اور فاطمہ
تنقیح : سائل نے بتایا کہ ان کے والد ہندوستان سے ہجرت کرکے آئے تھے،لیکن ان کی والدہ نے ہجرت نہیں کی تھی،والد صاحب کی وفات کے وقت زندہ تھی اور والد کا ان سے رابطہ رہتا تھا،خرچہ وغیرہ بھی بھجوایا کرتے تھے،بعد میں انتقال کرگئی تھی،والد صاحب کے علاوہ ان کے دو بیٹے(ارسلان،ارحم) اور ایک بیٹی (آسیہ)ہے،ایک بیٹا دبئی میں ہے،لیکن ان سے اب رابطہ نہیں رہا۔
والد کے انتقال کے بعد 2017ء میں ان کے بیٹے محمد حسین کا انتقال ہوا،جس کے ورثا میں والدہ(زینب) ایک بیوہ (افشین)، دوبیٹیاں (ضحی اور وردہ)،جبکہ ایک بیٹا (محمدیحی) شامل ہیں۔
پھر 2018ء میں دوسرے بیٹے محمداشرف کا انتقال ہوا،جس کے ورثا میں والدہ(زینب) ، ایک بیوہ(عائشہ)،تین بیٹیاں(جویریہ،خدیجہ،اریبہ،اقصی) اور دوبیٹے(محمدحسان اورمحمدحذیفہ) شامل تھے۔
پھر 2021ء میں والدہ کا بھی انتقال ہوگیا،ان کے انتقال کے وقت پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں زندہ تھیں،جبکہ ان کے والدین ان سے پہلے وفات پاچکے تھے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
وفات کے وقت مرحوم والد کی ملکیت میں کچھ تھا اس میں سب سے پہلے ان کے تکفین اور تدفین کے اخراجات نکالے جائیں گے اگر کسی وارث نے اپنی طرف سے نہ کئے ہوں،پھر ان کے ذمے اگر کسی کا قرض تھا وہ ادا کیا جائے گا،اس کے بعد اگر انہوں کو ئی جائز وصیت کی تھی تہائی مال تک اسے پورا کیا جائے گا،اس کے بعد جو بچے گا وہ ورثا میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا،واضح رہے کہ یہ ترتیب تمام مرحومین کے ترکہ کے تقسیم کے وقت ملحوظ رہے گی۔
آپ کے مرحوم والد معین الدین کی میراث میں ورثا کے حصوں کی تفصیل درج ذیل ہے:
ٕنمبرشمار |
ٕوارث |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
1 |
زینب |
3/24 |
12.5% |
2 |
فاطمہ(والدہ) |
4/24 |
16.666% |
3 |
محمدحنیف |
2/24 |
8.3334% |
|
4 |
محمداشرف |
2/24 |
8.3334% |
|
5 |
محمدعلی |
2/24 |
8.3334% |
|
6 |
محمدحسین |
2/24 |
8.3334% |
|
7 |
محمدخالد |
2/24 |
8.3334% |
|
8 |
عبدالرحمن |
2/24 |
8.3334% |
|
9 |
عبداللہ |
2/24 |
8.3334% |
|
10 |
رقیہ |
1/24 |
4.1667% |
|
11 |
کلثوم |
1/24 |
4.1667% |
|
12 |
فاطمہ(بیٹی) |
1/24 |
4.1667% |
3۔مرحوم معین الدین کے ترکہ میں سے ان کی والدہ فاطمہ کو جو حصہ(16.666%) ملا تھا ،اس میں ان کے ورثا کے حصوں کی تفصیل درج ذیل ہے:
ٕنمبرشمار |
ٕوارث |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
1 |
ارسلان |
2/5 |
6.6664% |
2 |
ارحم |
2/5 |
6.6664% |
3 |
آسیہ |
1/5 |
3.3332% |
3۔ محمدحسین کو ان کے مرحوم والد کی جائیداد میں سے جو (8.3334%) ملا تھا ،اس میں ان کے ورثا کے حصوں کی تفصیل درج ذیل ہے:
ٕنمبرشمار |
ٕوارث |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
1 |
افشین |
12/96 |
1.0416% |
2 |
زینب |
16/96 |
1.3889% |
3 |
محمدیحی |
34/96 |
2.9514% |
4 |
ضحی |
17/96 |
1.4757% |
5 |
وردہ |
17/96 |
1.4757% |
4۔ محمداشرف کو ان کے مرحوم والد کی جائیداد میں سے جو (8.3334%) ملا تھا ،اس میں ان کے ورثا کے حصوں کی تفصیل درج ذیل ہے:
ٕنمبرشمار |
ٕوارث |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
1 |
عائشہ |
24/192 |
1.0416% |
2 |
زینب |
32/192 |
1.3889% |
3 |
محمدحسان |
34/192 |
1.4757% |
4 |
محمدحذیفہ |
34/192 |
1.4757% |
5 |
جویریہ |
17/192 |
0.7378% |
6 |
خدیجہ |
17/192 |
0.7378% |
7 |
اریبہ |
17/192 |
0.7378% |
8 |
اقصی |
17/192 |
0.7378% |
5۔ زینب خاتون کو ان کے شوہر اور ان سے پہلے وفات پانے والے دوبیٹوں کے ترکہ میں سے جو مجموعی حصہ(15.2778%) ملا تھا،اس میں ان کی وفات کے وقت زندہ ورثا کے حصوں کی تفصیل حسب ذیل ہے:
ٕنمبرشمار |
ٕوارث |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
1 |
محمدحنیف |
2/13 |
2.3504% |
|
2 |
محمدعلی |
2/13 |
2.3504% |
|
3 |
محمدخالد |
2/13 |
2.3504% |
|
4 |
عبدالرحمن |
2/13 |
2.3504% |
|
5 |
عبداللہ |
2/13 |
2.3504% |
|
6 |
رقیہ |
1/13 |
1.1752% |
|
7 |
کلثوم |
1/13 |
1.1752% |
|
8 |
فاطمہ |
1/13 |
1.1752% |
مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق معین الدین مرحوم کے ترکہ میں زندہ ورثا کے حصوں کی تفصیل درج ذیل ہے:
|
نمبرشمار |
ورثا کے نام |
فیصدی حصہ |
|
1 |
ارسلان |
6.6664% |
|
2 |
ارحم |
6.6664% |
|
3 |
آسیہ |
3.3332% |
|
4 |
محمدحنیف |
10.6838% |
|
5 |
محمدعلی |
10.6838% |
|
6 |
محمدخالد |
10.6838% |
|
7 |
عبدالرحمن |
10.6838% |
|
8 |
عبداللہ |
10.6838% |
|
9 |
رقیہ |
5.3419% |
|
10 |
کلثوم |
5.3419% |
|
11 |
فاطمہ |
5.3419% |
|
12 |
افشین |
1.0416% |
|
13 |
محمدیحی |
2.9514% |
|
41 |
ضحی |
1.4757% |
|
15 |
وردہ |
1.4757% |
|
16 |
عائشہ |
1.0416% |
|
17 |
محمدحسان |
1.4757% |
|
18 |
محمدحذیفہ |
1.4757% |
|
19 |
جویریہ |
0.7378% |
|
20 |
خدیجہ |
0.7378% |
|
21 |
اریبہ |
0.7378% |
|
22 |
اقصی |
0.7378% |
ملاحظہ:
آپ کی دادی مرحومہ فاطمہ کا حصہ ان کی وفات کے بعد ان کے ورثا کا حق ہے، لہذا ہرممکن طریقے سے ان سے رابطے کی کوشش کرکےان تک پہنچانے کی کوشش کی جائےاور رابطہ ہونے تک خاندان کے کسی معتمد فرد کے پاس بطور امانت رکھوایا جائے،جب ہر ممکن طریقے سے رابطے کی کوشش کے باوجود رابطہ نہ ہوسکے اور رابطے سے ناامیدی ہوجائے تو ان کی طرف سے ثواب کی نیت صدقہ کردیا جائے۔
حوالہ جات
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
08/ربیع الاول1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


