| 88516 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
والد صاحب کی وفات کے وقت ایک بہن کی شادی ہوگئی تھی،دیگر دو بہنوں کی شادی والد صاحب کی وفات کے تقریبا چوبیس سال بعد 2018ء میں ہوئی، ، والد صاحب کی وفات کے بعد میراث کی تقسیم تاخیر کا شکار ہوگئی،اب تقسیم کا ارادہ ہے،سوال یہ ہے کہ مکان کے کرایہ کی مد میں بہنوں کا جو حصہ بنتا ہے وہ کس طریقے سے ادا کیا جائے گا اور یہ کرایہ صرف بہنوں کا حق ہے یا جو بھائی کسی دوسرے شہر میں مقیم ہو اس کا بھی حق ہے؟
اور یہ کرایہ کس کے ذمے لازم ہوگا؟ سب بھائیوں کے ذمے یا صرف ان کے ذمے جو والد کے مکان میں رہائش پذیر ہیں؟ اور کرایہ والد صاحب کی وفات کے بعد سے دینا ہوگا،یا والدہ کی وفات کے بعد سے؟
واضح رہے کہ والدہ کی وفات 03 نومبر 2021ء کو ہوئی،والدہ کی وفات کے بعد اب تک چھ بھائی کرایہ کی مد میں بیالیس سو روپے ہر مہینے بہنوں کو دیتے ہیں،اگرچہ یہ کرایہ عام رائج کرایہ سے کم ہے۔
تنقیح:سائل نے وضاحت دی ہے کہ دو بہنیں تو 2018 ء تک خود بھی ان کے ساتھ اس مکان میں رہائش پذیر تھیں،اس کے بعد ان کی شادیاں ہوئیں ،البتہ ایک بہن کی شادی والد کی زندگی میں ہوگئی تھی،لیکن ان میں سے کسی بہن کی جانب سے بھائیوں سے کرایہ کامطالبہ نہیں کیا گیا اور نہ کرایہ کے حوالے سے کوئی معاہدہ ہوا،والدہ کی وفات کے بعد اس گھر میں مقیم بھائیوں نے باہمی مشورہ سے بیالیس سو روپے ماہانہ بہنوں کو دینا طے کیا،جس پر بہنوں نے رضامندی کا اظہار کیا اور بہنوں نے اس حوالے سے بھائیوں کو مکمل اختیار دیا ہے کہ وہ لوگ جیسا فیصلہ کریں گے، انہیں منظور ہوگا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگرچہ اصولی طور پر ان ورثا کو جو اس گھر میں رہائش پذیر نہیں تھےوالدصاحب کی وفات کے بعد سے ہی اس مکان میں موجود اپنے اپنے حصے کے کرایہ کے مطالبے کا حق حاصل تھا،لیکن چونکہ والدہ کی وفات تک ان ورثا کی جانب سے ایسا کوئی مطالبہ سامنے نہیں آیا اور نہ کرایہ کے حوالے سے کوئی معاہدہ ہوا،بلکہ آپ لوگ ان کی رضامندی سے اس گھر میں رہائش پذیر تھے،اس لئے سابقہ مدت کا کوئی کرایہ دینا لازم نہیں،البتہ آئندہ کے لئے اس حوالے سے آپ لوگ باہمی رضامندی سے کوئی بھی کرایہ طے کرسکتے ہیں اور چاہیں تو وہی بیالیس سو روپے بھی برقرار رکھ سکتے ہیں جو والدہ کی وفات کے بعد آپ لوگوں نے باہمی مشاورت سے طے کئے۔
نیز یہ کرایہ ان ورثا پر لازم ہوگا جو اس مشترکہ گھر میں رہائش پذیر ہیں،وہ بھائی جو اس گھر میں رہائش پذیر نہیں ان کے ذمے کرایہ دینا لازم نہیں،بلکہ انہیں تو اپنے حصے کے تناسب سے ان بھائیوں سے کرایہ کےمطالبے کا حق بھی حاصل ہے جو اس گھر میں رہ رہے ہیں۔
حوالہ جات
"الدر المختار " (4/ 337):
"لو واحد من الشريكين سكن ... في الدار مدة مضت من الزمن فليس للشريك أن يطالبه ... بأجرة السكنى ولا المطالبه
بأنه يسكن من الأول ... لكنه إن كان في المستقبل".
"العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية "(2/ 130):
"(سئل) في مصبنة معدة للاستغلال مشتركة بين هند ورجلين لكل منهم حصة معلومة استعملها الرجلان وحدهما مدة بدون إذن من هند ولا إجارة ولا أجرة ولا وجه شرعي فهل عليهما لهند أجر المثل لحصتها في المدة؟
(الجواب) : حيث كانت معدة للاستغلال وكان الحال ما ذكر عليهما لهند أجر المثل لحصتها.
(أقول) في هذا الجواب نظر فقد قدمنا أن المعد للاستغلال إذا استعمله غاصب، تجب عليه أجرة المثل إلا إذا كان بتأويل ملك أو عقد فلا تجب على الشريك؛ لأن له تأويل ملك وقد نقل المؤلف في غير هذا المحل ما صورته :وفي فتاوى شيخ الإسلام طاهر بن محمود أحد الشريكين إذا سكن في دار الشركة بغيبة صاحبه ثم جاء الآخر يطلب حصته ليس له ذلك وإن كانت الدار معدة للاستغلال؛ لأن الدار المشتركة في حق السكنى وفيما هو من توابع السكنى تجعل مملوكة لكل واحد من الشريكين على سبيل الكمال ؛إذ لو لم تجعل كذلك ،يمنع كل واحد من الدخول والقعود ووضع الأمتعة فيتعطل عليهما منافع ملكهما وإنه لا يجوز وإذا كان هكذا صار الحاضر ساكنا في ملك نفسه فلا يجب الأجر.
ومثله في الفصل الثامن من إجارات الذخيرة: بيت أو حانوت بين شريكين سكنه أحدهما لا يجب عليه الأجر وإن كان معدا للاستغلال؛ لأنه سكن بتأويل الملك فصول العمادي من الفصل 32 من أنواع الضمانات في ضمان أحد الشريكين".
"درر الحكام في شرح مجلة الأحكام" (3/ 26):
"تقسم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابها بنسبة حصصهم، يعني إذا كانت حصص الشريكين متساوية أي مشتركة مناصفة فتقسم بالتساوي وإذا لم تكن متساوية بأن يكون لأحدهما الثلث وللآخر الثلثان فتقسم الحاصلات على هذه النسبة؛ لأن نفقات هذه الأموال هي بنسبة حصصهما".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
08/ربیع الاول1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


