| 88328 | نکاح کا بیان | جہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان |
سوال
عامر......... نے 2024ء کے اواخر میں نکاح کیا اور حق مہر نکاح نامے کے سیریل نمبر 13 پر 5000 روپے نقدی،پانچ تولہ سونا،جس میں سے تین تولہ سونا اور نقدی معجل،جبکہ دو تولہ سونا غیر معجل طے ہوا تھا۔
اس کے علاوہ نکاح نامے کے سیریل نمبر 16 پر نصف مکان اور گاڑی بھی لکھی گئی تھی، عامر اقبال نے حق مہر کی رقم وغیرہ جو کچھ نکاح نامے کے سیریل نمبر 13 پر درج تھا ،دوتولہ سونا کے علاوہ اس کی ادائیگی کردی ہے،اب سوال یہ ہے کہ آیا نکاح نامے کے سیریل نمبر 16 پرلکھی گئی جائیداد اور گاڑی بھی حق مہر شرعی میں شامل ہے ؟
کیونکہ عامر اقبال وفات پاچکے ہیں،توکیا اب ان کے ورثا ان کی بیوہ کو سیریل نمبر16 پر لکھی گئی جائیداد اور گاڑی وغیرہ دینے کے پابند ہوں گے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ نکاح نامے کے سیریل نمبر 16 کی عبارت یہ ہے کہ :
"آیا پورے مہر یا اس کے کسی حصے کے عوض میں کوئی جائیداد دی گئی ہے،اگر دی گئی ہے تو اس جائیداد کی صراحت اور اس کی قیمت جو فریقین کے درمیان طے پائی ہے"۔
جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سیریل نمبر میں لکھی گئیں اشیاء بھی مہر کا حصہ تھیں،اس لئے عامر اقبال کی وفات کے بعد ان کے ترکہ کی تقسیم سے پہلے یہ اشیاء مرحوم کی بیوہ کو دینی ہوں گی۔
حوالہ جات
"بدائع الصنائع " (2/ 292):
"وروي عن رسولﷲ - صلى ﷲعليه وسلم - أنه قال: «من كشف خمار امرأته ونظر إليها وجب الصداق دخل بها أو لم يدخل» وهذا نص في الباب".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
09/صفر1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


