| 88485 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
میں محمد........ بحیثیت بھائی، آپ کی خدمت میں انتہائی ادب و احترام کے ساتھ یہ درخواست پیش کر رہا ہوں تاکہ آپ میری ہمشیرہ محترمہ ......... کے نکاح کے شرعی فسخ کے متعلق فتویٰ مرحمت فرمائیں۔
یہ درخواست کسی ذاتی جذبات یا وقتی پریشانی پر مبنی نہیں بلکہ خالصتاً شریعتِ مطہرہ کے اصولوں کی روشنی میں پیش کی جا رہی ہے۔
میری بہن نے اپنے شوہر محمد...... بن. ...سراج ....سے علیحدگی کی درخواست فیملی کورٹ کراچی (ساؤتھ) میں 2021 میں دائر کی۔ عدالت نے شوہر کو تین مرتبہ نوٹس جاری کیے، مگر وہ کسی بھی سماعت میں حاضر نہ ہوا۔ عدالت نے تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے یکطرفہ کارروائی (Ex-Parte) کے تحت مورخہ 18 ستمبر 2021 کو فیصلہ جاری فرمایا، جس میں عدالت نے یہ لکھا:
"Marriage is dissolved by way of Khula."
عدالت کے اس فیصلے کی بنیاد پر یونین کونسل نے سرکاری Divorce Certificate جاری کیا، جس میں واضح طور پر "نوعیت: خلع" درج ہے۔ لیکن چونکہ شوہر کی رضامندی یا دستخط شامل نہیں، بعض علماء اسے شرعی خلع تسلیم نہیں کرتے بلکہ فسخِ نکاح کے قریب شمار کرتے ہیں۔
ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اگر شوہر کی طرف سے خلع کی منظوری نہ ہو تو شرعی خلع مکمل نہیں ہوتا، تاہم فقہ اسلامی کی روشنی میں قاضی (عدالت) کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ عورت کو نقصان یا اذیت کی صورت میں نکاح فسخ کر دے۔
اس کیس کی سب سے اہم بنیاد یہ ہے کہ شوہر نہ تو بیوی کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہے اور نہ ہی طلاق یا علیحدگی دینے کے لیے تیار ہے،یعنی عورت کو معلق چھوڑ رکھا ہے ،نہ ازدواجی زندگی دے رہا ہے، نہ آزادی۔
ایسی صورت حال میں شریعت صراحت سے اجازت دیتی ہے کہ قاضی نکاح کو فسخ کر سکتا ہے، تاکہ عورت ظلم کا شکار نہ رہے۔
جیسا کہ فقہ حنفی میں ہے: "وَإِنْ أَبَى الزَّوْجُ وَتَعَذَّرَ الإِصْلَاحُ، يَحْكُمُ الْقَاضِي بِالْفَسْخِ" (الدر المختار)
ترجمہ: اگر شوہر انکار کرے اور اصلاح ممکن نہ ہو، تو قاضی نکاح فسخ کر سکتا ہے۔
عدالت کے فیصلے میں صاف لکھا ہے: "No compromise or reconciliation is possible between the parties." اور: "Plaintiff stated that she does not want to live with the defendant."
یہ جملے شرعی طور پر "عدمِ موافقت" (irreconcilable differences) کی دلیل ہیں، جو کہ تمام فقہاء کے نزدیک فسخ نکاح کے جواز کی بنیاد ہے۔
فقہ مالکی میں بھی عورت کو علیحدگی کا حق دیا گیا ہے اگر وہ کہے کہ وہ شوہر کو ناپسند کرتی ہے، اور شوہر زبردستی نکاح برقرار رکھنا چاہے: "المرأة إذا كرهت زوجها ولم تطق العيش معه، يفسخ الحاكم النكاح." (الموطأ، المدونة)
فقہ شافعی کے مطابق: "إذا كان بين الزوجين نزاع وشقاق وتعذر الإصلاح، جاز للحاكم التفريق بينهما." (المجموع للنووی)
اور اہل حدیث کے نزدیک: حضرت ثابت بن قیس کی بیوی کا واقعہ دلیل ہے کہ نبی کریم ﷺ نے خلع کی بنیاد پر نکاح ختم کرنے کی اجازت دی، جب عورت نے کہا: "مجھے شوہر کا دین و اخلاق پسند ہے، مگر اس کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔" (صحیح بخاری حدیث 5273)
یہ تمام دلائل اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ جب اصلاح ممکن نہ ہو، اور بیوی زندگی گزارنے سے انکاری ہو، اور شوہر نہ علیحدگی دے اور نہ ازدواجی حقوق دے، تو قاضی کو شرعی اختیار حاصل ہے کہ وہ نکاح فسخ کر دے۔
اس ضمن میں یہ بھی عرض ہے کہ عدالت کی جانب سے جاری کردہ فیصلوں میں "فسخ نکاح" کی اصطلاح قانونی طور پر استعمال نہیں کی جاتی، بلکہ ان فیصلوں کو "خلع" یا "طلاق" کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے، تاہم عملی اور شرعی اعتبار سے جب شوہر کی رضامندی شامل نہ ہو، تو یہ فیصلہ شرعی "فسخ نکاح" کے حکم میں آتا ہے، اگرچہ عدالت نے اسے "خلع" کہا ہو۔
مزید برآں ہم یہ بھی عرض کرنا چاہتے ہیں کہ عدالت کا مقدمہ مکمل ہو چکا ہے، اور پاکستان کے قانونی نظام میں ایک بار فیصلہ ہونے کے بعدفسخِ نکاح کا دوبارہ کیس دائر نہیں کیا جا سکتا،عدالت نے تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے حتمی ڈگری جاری کی ہے اور اب صرف شرعی توثیق کی ضرورت باقی ہے۔
لہٰذا بندہ مؤدبانہ گزارش کرتا ہے کہ عدالت کے فیصلے کو شرعی فسخِ نکاح تسلیم کیا جائے، تاکہ میری بہن آئندہ شرعی نکاح میں داخل ہو سکے اور معاشرتی و دینی مسائل سے محفوظ رہے،اللہ تعالیٰ آپ کی بصیرت میں برکت عطا فرمائے اور دین کے اس کام میں قبول فرمائے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اصل سوال (مذکورہ صورت میں عدالتی خلع شرعا معتبر ہے یا نہیں؟)کے جواب سے پہلے یہ واضح ہو کہ آپ نے استفتاء میں مذاہب اربعہ کی مختلف کتابوں کے حوالے سے جو عبارات نقل کی ہیں ،متعلقہ کتب میں تتبع وتلاش کے باوجود یہ عبارات نہیں مل سکیں، بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ نےیہ عبارات چیٹ جی پی ٹی پر اعتماد کرکے وہاں سے نقل کی ہیں،اس حوالے سے عرض ہے کہ دینی معاملات میں چیٹ جی پی ٹی پر اعتماد درست نہیں،اس تمہید کے بعد اصل سوال کا جواب ملاحظہ ہو:
اگرچہ مذکورہ صورت میں شرعاً فسخ نکاح کی معقول وجہ(شوہر کا تَعَنُّت) موجود ہے،لیکن چونکہ مذکورہ صورت میں عدالت نے آپ کی بہن سے اس کے دعوی پر گواہ طلب نہیں کیے،بلکہ محض یکطرفہ بیان کی بنیاد پر خلع کی ڈگری جاری کردی،اس لیے شرعا عدالت کا یہ فیصلہ نافذ نہیں ہوا اور آپ کی بہن بدستور سابقہ شوہر کے نکاح میں ہے،جب تک سابقہ نکاح ختم نہیں ہوجاتا تب تک آپ کی بہن کسی اور جگہ نکاح نہیں کرسکتی۔
مذکورہ صورت میں نکاح کو ختم کرنے کا سب سے بہتر طریقہ تو یہ ہے کہ کسی مناسب طریقے سے کوشش کرکے شوہر کو طلاق دینے پر آمادہ کیا جائے،اگر وہ بغیر عوض کے طلاق دینے پر آمادہ نہ ہو تو پھر کسی عوض مثلا مہر وغیرہ کے بدلے اس سے خلع لینے کی کوشش کرلی جائے،اگرچہ شوہر کے قصوروار ہونے کی صورت میں اس کے لئے طلاق کے بدلے کوئی عوض لینا جائز نہیں،پھر اگر شوہر نہ طلاق دینے پر آمادہ ہو اور نہ خلع پراور نہ ہی بیوی کے حقوق کی رعایت رکھتے ہوئے اسے ساتھ رکھنے کے لئے تیار ہو اور عورت کے لئے شوہر سے خلاصی حاصل کئے بغیر کوئی چارہ نہ ہو یعنی نہ عورت اپنی عزت محفوظ رکھ کر کسبِ معاش کی کوئی صورت اختیار کرسکتی ہو اور نہ مستقل طور پر کوئی اس کے مصارف برداشت کرنے پر آمادہ ہو تو پھر آپ لوگ دوبارہ عدالت سے رجوع کریں اور خلع کا مدار اس پر رکھیں کہ شوہر وسعت کے باوجود بیوی کا نان نفقہ نہیں دیتا اور اپنی بات ثابت کرنے کے لیے اپنے دعوی کے ساتھ دو گواہ بھی پیش کریں اور جج سے درخواست کریں کہ وہ ان کی گواہی سن لے یا اسٹام پیپر پر ان کی تحریری گواہی جج کے سامنے پیش کریں،جب دو گواہوں کی گواہی کے ساتھ عورت کا دعوی صحیح ثابت ہوجائے تو پھر عدالت شوہر کو سمن بھجواکر عدالت میں حاضر ہونے کا حکم نامہ جاری کرے،جب شوہر عدالت آجائے تو اسے کہے کہ یا تو بیوی کے حقوق ادا کرو یا پھر طلاق دے دو،اگر وہ ان میں سے کسی بات پر آمادہ نہ ہو یا عدالت آئے ہی نہیں تو اس کے بعد قاضی کو بغیر کسی مہلت کے فوری طور پر نکاح فسخ کرنے کا حق حاصل ہوگا ، اس کے بعد عورت عدت گزارے گی،عدت گزرنے کے بعد اسے کسی اور سے نکاح کا حق حاصل ہوگا۔
اور اگر دوبارہ عدالت سے رجوع میں مشکل ہو تو اپنے علاقے کی پنچائیت میں اس معاملے کو لے جائیں اور اس کے سامنے اپنی بات کو گواہوں سے ثابت کردے،اس کے بعد پنچائیت کو مذکورہ بالا طریقہ کار کے مطابق عورت کے نکاح کو فسخ کرنے کا حق حاصل ہوگا۔
تنبیہ: اگر پنچائیت سے فیصلہ کرایا جائے تو اس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ وہ پنچائیت کم از کم تین ایسے ارکان پر مشتمل ہو جو سب علماء ہوں،اگر علماء میسر نہ ہوں تو کم از کم نیک ہوں اور کسی ایسے عالم سے راہنمائی لے کر فیصلہ کریں جو شہادت اور قضاء کے احکام سے بخوبی واقف ہوں،نیز فسخِ نکاح کا فیصلہ پنچائیت کے تمام ارکان کے اتفاقِ رائے سے ہو،کسی کا اختلاف نہ ہو۔
حوالہ جات
"الفتاوى الهندية" (4/ 3):
"(وأما حكمها) فاستحقاق الجواب على الخصم بنعم أو لا فإن أقر ثبت المدعى به وإن أنكر يقول القاضي للمدعي: ألك بينة فإن قال: لا، يقول لك يمينه ولو سكت المدعى عليه ولم يجبه بلا أو نعم فالقاضي يجعله منكرا حتى لو أقام المدعي البينة تسمع ،كذا في محيط السرخسي".
"المبسوط للسرخسي" (6/ 173):
"والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد".
"رد المحتار"(ج 12 / ص 122):
"( قوله : وكره تحريما أخذ الشيء ) أي قليلا كان ، أو كثيرا .
والحق أن الأخذ إذا كان النشوز منه حرام قطعا { فلا تأخذوا منه شيئا} إلا أنه إن أخذ ملكه بسبب خبيث ، وتمامه في الفتح ، لكن نقل في البحر عن الدر المنثور للسيوطي : أخرج ابن أبي جرير عن ابن زيد في الآية قال : ثم رخص بعد ، فقال : { فإن خفتم ألا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به } ، قال :فنسخت هذه تلك ا هـ وهو يقتضي حل الأخذ مطلقا إذا رضيت ا هـ أي سواء كان النشوز منه أو منها ، أو منهما .
لكن فيه أنه ذكر في البحر أولا عن الفتح أن الآية الأولى فيما إذا كان النشوز منه فقط ، والثانية فيما إذا لم يكن منه فلا تعارض بينهما ، وأنهما لو تعارضتا فحرمة الأخذ بلا حق ثابتة بالإجماع ، وبقوله تعالى{ ولا تمسكوهن ضرارا لتعتدوا } وإمساكها لا لرغبة بل إضرارا لأخذ مالها في مقابلة خلاصها منه مخالف للدليل القطعي فافهم" .
"رد المحتار" (5/ 414):
"وقال في جامع الفصولين: قد اضطربت آراؤهم وبيانهم في مسائل الحكم للغائب، وعليه ولم يصف ولم ينقل عنهم أصل قوي ظاهر يبنى عليه الفروع بلا اضطراب ولا إشكال فالظاهر عندي أن يتأمل في الوقائع، ويحتاط ويلاحظ الحرج والضرورات فيفتي بحسبها جوازا أو فسادا، مثلا لو طلق امرأته عند العدل فغاب عن البلد، ولا يعرف مكانه أو يعرف، ولكن يعجز عن إحضاره أو عن أن تسافر إليه هي أو وكيلها لبعده أو لمانع آخر، وكذا المديون لو غاب وله نقد في البلد أو نحو ذلك، ففي مثل هذا لو برهن على الغائب، وغلب على ظن القاضي أنه حق لا تزوير، ولا حيلة فيه فينبغي أن يحكم عليه وله، وكذا للمفتي أن يفتي بجوازه دفعا للحرج والضرورات وصيانة للحقوق عن الضياع مع أنه مجتهد فيه، ذهب إليه الأئمة الثلاثة وفيه روايتان عن أصحابنا، وينبغي أن ينصب عن الغائب وكيل يعرف أنه يراعي جانب الغائب ولا يفرط في حقه اهـ وأقره في نور العين.
قلت: ويؤيده ما يأتي قريبا في المسخر، وكذا ما في الفتح من باب المفقود لا يجوز القضاء على الغائب إلا إذا رأى القاضي مصلحة في الحكم له وعليه فحكم فإنه ينفذ؛ لأنه مجتهد فيه اهـ.
قلت: وظاهره ولو كان القاضي حنفيا ولو في زماننا ولا ينافي ما مر؛ لأن تجويز هذاللمصلحة والضرورة".
"الفواكه الدواني "(2/ 41):
"(تنبيهات) الأول: لم ينص المصنف على من ترفع له زوجة المفقود، وقد ذكرنا عن خليل أنه القاضي أو الوالي أو جماعة المسلمين، ولكن عند وجود الثلاثة لا ترفع إلا للقاضي لا لغيره، فإن رفعت لغيره مع التمكن من الرفع له حرم عليها ذلك، وإن مضى ما فعله إن كان هو الوالي أو والي الماء لا جماعة المسلمين، هذا ما يظهر من كلام ابن عرفة كما قاله الأجهوري، وأما لو رفعت لجماعة المسلمين مع وجود الوالي أو والي الماء فالظاهر مضي فعلهم.
وفي السنهوري وتبعه اللقاني أن ظاهر كلام خليل أن الثلاث في مرتبة واحدة وهو كذلك إلا أن القاضي أضبط، ووجود القاضي أو غيره مما ذكر مع كونه يجوز أو يأخذ المال الكثير بمنزلة عدمه فترفع لجماعة المسلمين".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
05/ربیع الاول1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


