| 90293 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ سوال(1) ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاق اکٹھی دی تھی اسکے بعد تقریباً چھ ماہ تک وہ شخص خود مخلتف مجالس میں مختلف لوگوں کے سامنے تین طلاق کا اقرار بھی کرتا رہا ہے چھ ماہ بعد وہ اپنے قول سے انکار کرکے دو طلاق دینے کا دعویٰ کرنے لگ گیا گواہوں میں سے بعض گواہ مرد کاساتھ دینے لگ گے اور بعض گواہ مرد کے مخالف ہوگے اور عورت پہلے دن سے اب تک تین طلاق ملنے کا اقرار کررہی ہے اسکے باوجود تقریباً عرصہ چار سال گزرنے کے بعد ان دونوں کا آپس میں دوبارہ نکاح پڑھا دیا جاتا ہے بغیر حلالہ کے اب اس نکاح کے بارے میں کیا حکم ہے ؟؟؟ سوال(2) اب اس گھرانے سے تعلق رکھنے کا کیا حکم ہے مثلاً ان کے گھر سے کھانا کھانا رشتہ داری وغیرہ رکھنا اور انکی اولاد کے نکاح پڑھانا اس گھرانے میں سے کسی کا نماز جنازہ پڑھانا کیسا ہے ؟؟؟ سوال (3) جس مولوی صاحب نے انکا نکاح پڑھایا ہے وہ اس ساری صورتحال سے واقف بھی تھے شروع کے دو سال وہ مرد کیطرف سے تین طلاق دینے کے گواہ بھی تھے کہ مرد نے خود میرے سامنے اپنی بیوی کو تین طلاق دینے کا اقرار کیا ہے لیکن بعد میں وہ مولوی صاحب اپنی بات سے منکر ہوکر انکا نکاح پڑھا دیتے ہیں اب اس مولوی صاحب کے اپنے ایمان اور نکاح کا کیا حکم ہےاسکی اقتدا میں نماز ادا کرنے کا کیا حکم ہے اور اس مولوی سے صاحب تعلق رکھنے کا کیا حکم ہے ؟؟؟ براے مہربانی اس ساری صورتحال کےتفصیلی جوابات بصورت تحریری فتویٰ کے عنایت فرمائیں جزاکم اللہ خیرا کثیرا کثیرا
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
تین طلاقیں دینے کے بعد بیوی شوہر پر بالکل حرام ہو جاتی ہے اور اس حالت میں رجوع یا دوبارہ نکاح جائز نہیں رہتا۔ ایسی صورت میں دوبارہ نکاح کر کے اس کو اپنے ساتھ رکھنا حرام ہے اور اگر ازدواجی تعلق قائم کیا ہے تو وہ زنا کے حکم میں آئے گا ۔ لہٰذا اس شخص پر لازم ہے کہ فورا ً اس عورت کو علیحدہ کرے اور اب تک جو کچھ ہوا ہے اس پرتوبہ و استغفار کرے ۔
ایسے شخص کوراہِ راست پر لانے کے لیے پہلے سمجھایا جائے اور وعیدیں سنائی جائیں ،سمجھانے کے باوجود اگر یہ شخص باز نہیں آتااور علیحدگی اختیا رنہیں کرتا تو اسے تنبیہ کرنے کے لیے میل جول اور تعلقات محدود یا ختم کیے جاسکتے ہیں ۔تاہم اگر کسی کو محسوس ہو کہ محدود بات چیت سے سمجھانا مفید ہوگا تو وہ محدود تعلقات بھی رکھ سکتا ہے ۔
نکاح خواں کا تین طلاقوں کے علم ہونے کے باوجود ان کا نکاح پڑھانا ناجائز اور حرام ہے لہٰذا جب تک وہ اپنے اس فعل سے علانیہ توبہ نہ کرے ان سے قطع تعلقی کرنی چاہیے اور اگر قریب میں کوئی اور متبع سنت امام ہو تو اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہیے ۔
حوالہ جات
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ [البقرة: 230]
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 473):
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية
المبسوط للسرخسي (6/ 9):
فإن طلقها الثالثة ولا خلاف بين العلماء أن النكاح الصحيح شرط الحل للزوج الأول بعد وقوع الثلاث عليها.
فتح الباري لابن حجر (10/ 497 ط السلفية):
«باب ما يجوز من الهجران لمن عصى) أراد بهذه الترجمة بيان الهجران الجائز ; لأن عموم النهي مخصوص بمن لم يكن لهجره سبب مشروع، فتبين هنا السبب المسوغ للهجر، وهو لمن صدرت منه معصية، فيسوغ لمن اطلع عليها منه هجره عليها ليكف عنها.
العناية شرح الهداية - بهامش فتح القدير ط الحلبي» (1/ 350):
يكره تقديم (الأعرابي لغلبة الجهل فيهم والفاسق؛ لأنه لا يهتم بأمر دينه) وقال مالك لا تجوز الصلاة خلفه؛ لأنه لما ظهر منه الخيانة في الأمور الدينية لا يؤتمن في أهم الأمور.
وسیم اکرم بن محمد ایوب
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
14/ذوالقعدہ 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | وسیم اکرم بن محمد ایوب | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


