| 90165 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میری والدہ اپنے والد کے انتقال کے تقریباً پانچ سال بعد وفات پا گئیں۔ میری والدہ کے علاوہ ان کی تین بہنیں (خالائیں) اور دو بھائی (ماموں) ہیں۔ ہم نے اپنی والدہ کے حصے کی وراثت کا مطالبہ کیا تو ہمارے ماموں ٹال مٹول کرتے رہے۔ آخرکار ایک ماموں نے ایک اسٹامپ پیپر تیار کیا، جس میں لکھا تھا کہ وہ اپنی طرف سے ہمیں کچھ زمین بطور "تحفہ" دے رہا ہے، اور یہ بھی درج تھا کہ اس کے بعد ہمیں باقی جائیداد میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ جبکہ دوسرا ماموں اس معاملے میں خاموش ہے؛ کبھی کہتا ہے کہ جہاں سے چاہیں لے لیں، لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کرتا۔ اور جس ماموں نے مجھ سے دستخط کروائے، وہ کہتا ہے کہ آپ نے دستخط کر دیے ہیں، اس لیے اب آپ کچھ نہیں کر سکتے، میں جتنا دوں گا وہی لینا ہوگا، اور دستخط کے بعد آپ پورا حصہ طلب نہیں کر سکتے۔ جو زمین ہمیں دی گئی، وہ کل جائیداد کے مقابلے میں نہایت معمولی ہے (یعنی آٹے میں نمک کے برابر)۔ کل زمین تقریباً دو لاکھ مربع فٹ سے زائد ہے، جبکہ ہمیں اور ہماری تین خالاؤں کو ملا کر صرف تین ہزار مربع فٹ دیا گیا۔ میں اس دستاویز پر دستخط نہیں کرنا چاہتا تھا، لیکن مجبوری کے تحت مجھ سے دستخط کروا لیے گئے۔ بعد میں جب میں نے اس اسٹامپ پیپر کی نقل یا تصویر مانگی تو انہوں نے دینے سے انکار کر دیا۔ مزید یہ کہ جو زمین ہمیں دی گئی ہے، اس پر بھی ہمیں قبضہ نہیں دیا جا رہا، بلکہ ماموں خود اسے فروخت کر رہے ہیں۔ اب میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا میں اس دستخط سے دستبردار ہو سکتا ہوں، اور کیا میں شریعت کے مطابق اپنی والدہ کے پورے وراثتی حصے کا دوبارہ مطالبہ کر سکتا ہوں؟ اس سلسلے میں مجھے ایک مستند فتویٰ درکار ہے جو ہر جگہ میرے لیے کارآمد ہو۔
تنقیح: سائل سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ سائل نے صرف اپنی والدہ کے حصے میں اپنی طرف سے دستخط کیا تھا اپنے بھائیوں اور والد صاحب وغیرہ کی طرف سے نہیں کیا۔ دوسرا مجبوری سے مراد ان کو جذباتی طور پر بلیک میل کر رہے تھے جیسے اپنے رشتے وغیرہ کا حوالہ دیتے رہے لیکن کوئی مالی جانی نقصان نہیں دے رہے تھے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ترکہ میں جائیداد کی تقسیم سے پہلے اگر کوئی وارث ترکہ میں سے کوئی چیز لے کر (خواہ وہ معمولی ہی کیوں نہ ہو) صلح کر لے اور اپنے حقیقی حصے سے دستبردار ہو جائے تو شرعاً یہ درست ہے، اسے اصطلاح میں "تخارج" کہتے ہیں۔ ایسی صورت میں گویا وہ وارث اپنا حصہ دیگر ورثہ کو فروخت کر دیتا ہے۔ لیکن یہاں اس کے بدلے جس زمین کا وعدہ کیا گیا وہ مجہول تھی اور مجلس میں اس کی جہالت ختم بھی نہیں ہوئی تھی او راب تک اس پر قبضہ بھی نہیں دیا جا رہا، لہٰذسابقہ صلح معتبر نہیں اور ا آپ کا حق بدستور باقی ہے۔
لہذا آپ اپنی والدہ کے مکمل شرعی حقِ میراث کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ اسی طرح دیگر تمام ورثہ (بھائی، بہنیں اور والد صاحب) بھی اپنے اپنے شرعی حصوں کے مطالبے کا پورا حق رکھتے ہیں۔
نیز یہ کہ میراث کی تقسیم میں ٹال مٹول کرنا یا کسی وارث کو اس کے حق سے محروم کرنا سخت ترین گناہ اور ظلم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں وراثت کے احکام بیان کرنے کے بعد صاف الفاظ میں وعید فرمائی ہے:
"اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کے (مقرر کردہ) حدود سے تجاوز کرے گا، اللہ اسے آگ (جہنم) میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے ذلیل کر دینے والا عذاب ہے۔" (سورۃ النساء: 14)
حوالہ جات
سورہ النساء 14
ومن يعص اللہ ورسولہ ويتعد حدودہ يدخلہ نارا خالدا فيها ولہ عذاب مھين.
در المختار(425/8)
(أخرجت الورثة أحدهم عن التركة وهي (عرض أو) هي (عقار بمال) أعطاه له.
كنز الدقائق مع حاشية الصديقي النانوتوي(557/3)
ومن صالح من الورثة فاجعل كأن لم يكن واقسم ما بقي على سهام من بقي
( ومن صالح إلخ) لما فرغ من بيان القسمة شرع في بيان التخارج، وهو تفاعل من الخروج والمراد به هنا أن يتصالح الورثة على إخراج بعضهم عن الميراث بشيء معلوم من التركة وهو جائز عند التراضي، يعني من صالح من الورثة على شيء معلوم من التركة، فاطرح سهامه من التصحيح واجعله كأن لم يكن، واقسم ما بقي من التركة بعد ما أخذه المصالح على سهام من بقي من الورثة
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع(156/5)
(ومنها )أن يكون المبيع معلوما وثمنه معلوما علما يمنع من المنازعة . فإن كان أحدهما مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة فسد البيع ، وإن كان مجهولا جهالة لا تفضي إلى المنازعة لا يفسد ; لأن الجهالة إذا كانت مفضية إلى المنازعة كانت مانعة من التسليم والتسلم فلا يحصل مقصود البيع ، وإذا لم تكن مفضية إلى المنازعة لا تمنع من ذلك.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 690)
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به)
رد المحتار (678/11)
الإرث جبري لا يسقط بالإسقاط.
ظہوراحمد
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
02 ذوالقعدہ 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ظہوراحمد ولد خیرداد خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


