03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نفاس مکمل ہونے کےبعد آنےوا لاخون
90458پاکی کے مسائلحیض،نفاس اور استحاضہ کا بیان

سوال

ایک خاتون کا آپریشن (سیزر) کے ذریعے بچہ پیدا ہوا۔ اس دن ظہر کے بعد نفاس کا خون شروع ہوا جو 40 دن تک (یعنی 22 اپریل تک) جاری رہا، اس دوران کبھی کبھار ایک دو دن کا وقفہ بھی آتا رہا۔ 40 دن کے بعد مزید 20 دن تک خون جاری رہا جس میں خاتون نے نمازیں ادا کیں۔ پھر خون رک گیا اور صرف 2 یا 3 دن پاکی رہی، جس کے بعد دوبارہ خون شروع ہوگیا۔ اب دریافت طلب امور یہ ہیں:

1۔ کیا 40 دن کے بعد والے 20 دن کا خون استحاضہ شمار ہوگا؟

2۔ دو یا تین دن کی پاکی کے بعد آنے والا خون استحاضہ ہے یا حیض؟

3۔ موجودہ حالت میں خاتون پر نماز پڑھنا لازم ہے یا نہیں؟ یعنی وہ حیض اور طہر (پاکی) کی پہچان کیسے کرے گی؟

تنقیح: خاتون کی طہر کی سابقہ عادت 23 دن اور حیض کی عادت 7 دن ہے، اور سابقہ ولادت میں بھی نفاس 40 دن سے زیادہ رہا تھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

    واضح رہے کہ نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے، اس کے بعد آنے والا خون استحاضہ کہلاتا ہے۔ اسی طرح طہر کا کم از کم دورانیہ 15 دن ہے، لہٰذا اس سے کم مدت میں خون بند ہونے کو شرعی طہر شمار نہیں کیا جائے گا۔

1۔ چالیس دن کے بعد آنے والا خون نفاس نہیں بلکہ استحاضہ ہے، لہٰذا خاتون غسل کر کے نماز، روزہ اور دیگر عبادات شروع کر دے۔ البتہ استحاضہ کی وجہ سے وہ معذور کے حکم میں ہوگی، اس لیے ہر فرض نماز کے وقت نیا وضو کرے گی اور اس وضو سے اس وقت کے اندر جتنی چاہے عبادات ادا کر سکے گی۔

2۔ درمیان میں جو دو یا تین دن خون بند رہا، اس کا حکم بھی یہی ہے کہ گویا خون جاری رہا۔

3۔ صورتِ مسئولہ میں چونکہ چالیس دن کے بعد سے اب تک خون مسلسل جاری ہے، اس لیے وہ چالیس دن کے بعد اپنی سابقہ عادت (یعنی 23 دن طہر اور 7 دن حیض) کے مطابق 23 دن تک نماز، روزہ اور دیگر عبادات ادا کرے گی، پھر 7 دن حیض شمار کر کے عبادات ترک کرے گی۔ جب تک مسلسل 15 دن خون بند نہیں ہو جاتا، تب تک یہی ترتیب جاری رہے گی۔  

حوالہ جات

   حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي: (1/ 285)

والزائد) على أكثره أو أكثر النفاس أو على العادة(قوله والزائد على أكثره) أي في حق المبتدأة، أما المعتادة فما زاد على عادتها ويجاوز العشرة في الحيض والأربعين في النفاس يكون استحاضة كما أشار إليه بقوله أو على العادة إلخ.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي: (1/ 285)

وأقل الطهر) بين الحيضتين أو النفاس والحيض (خمسة عشر يوما) ولياليها إجماعا (ولا حد لأكثره) .

منهل الواردين من بحار الفيض على ذخر المتأهلين في مسائل الحيض : (ص87)

فنقول وبالله التوفيق المخالفة) أي للعادة (ان كانت في النفاس) فإن جاوز الدم الاربعين فالعادة باقية ردت إليها والباقي) أي مازاد على العادة (استحاضة) فتقضى ما تركته فيه من الصلاة (وإن لم يجاوز) أي الدم الاربعين (وانتقلت) إلى العادة (إلى ما رأته) وحينئذ (فالكل نفاس»     الفتاوى         العالمكيرية = الفتاوى الهندية: (1/ 37)

أقل النفاس ما يوجد ولو ساعة وعليه الفتوى وأكثره أربعون. كذا في السراجية.وإن زاد الدم على الأربعين فالأربعون في المبتدأة والمعروفة في المعتادة نفاس هكذا في المحيط... لو رأت الدم بعد أكثر الحيض والنفاس في أقل مدة الطهر فما رأت بعدالأكثر إن كانت مبتدأة وبعد العادة إن كانت معتادة استحاضة وكذا ما نقص عن أقل الحيض وكذا ما رأته الكبيرة جدا والصغيرة جدا.

ذخر المتأهلين والنساء للإمام البركوي: (ص139)

(وأقل الطهر) المذكور  مختلف:فهو (في حق النفاسين ستة أشهر) لأنه أدنى مدة الحمل، فلو فصل أقل من ذلك كانا توأمين، والنفاس من الأول فقط كما مر ويأتي. (وفي) حق (غيرهما) من حيضين أو حيض ونفاس (خمسة عشر يوما) وإن كان أقل من ذلك فالثاني استحاضة، مصنف.فإذا وقع ذلك الطهر التام بين دمين (فالدمان المحيطان به حيضان) وكذا الحكم في الأكثر بطريق أولى، مصنف ؛ أي: الأكثر من طهر خمسة عشر.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (1/ 225):

والعادة تنتقل عند أبي يوسف بأحد أمور ثلاثة بعدم رؤية مكانها مرة وبطهر صحيح صالح لنصب العادة يخالف الأول مرة ودم صالح مخالف مرة وعندهما بتكرر هذه الأمور مرتين على الولاء اهـ.     

رشيدخان

  دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

29 /ذوالقعده/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

رشید خان بن جلات خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب