| 90172 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
کیافرماتےہیں علماءدین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کےبارےمیں کہ میں نےاب سےتین سال قبل اپنی بیوی کوایک طلاق دی اور ایک ماہ کےاندررجوع کرلیا،اب تین سال کےبعد دومرتبہ ایک ساتھ کہاکہ میں تمہیں دوطلاق دیتاہوں،اس طلاق کوابھی چاردن ہوئےہیں۔
کیامیں ان دوطلاقوں کےبعد رجوع کرسکتاہوں؟
اگررجوع کرنا چاہوں تو اس کی کیاصورت ہوگی ؟آیادوبارہ نکاح کرنا ہوگا یا صحبت کافی ہوگی ؟
برائےکرم شریعت کی روشنی میں راہنمائی فرماکراجر عظیم پائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں دوسری دفعہ جب دوطلاق رجعی دی توتین طلاق کاعددپوراہونےکی وجہ سے طلاق مغلظہ واقع ہوگئی ہے۔
طلاق مغلظہ کےبعدرجوع کی کوئی صورت نہیں، اس کےبعد بیوی شوہرپرحرام ہوجاتی ہے ، موجودہ حالت میں حلالہ شرعیہ کےبغیردوبارہ بھی نکاح نہیں ہوسکتا۔
حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ یہ مطلقہ عورت عدت گزارنے کے بعد کسی اورمردسےباقاعدہ نکاح کرکےاس کےساتھ رہے،پھرکسی وجہ سے دوسراشوہر طلاق دیدے یااس کاانتقال ہوجائے تویہ عورت پہلی صورت میں عدت طلاق اوردوسری صورت میں عدت وفات گزارنے کے بعداسی شوہر سے نئے مہراورگواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرسکتی ہے۔
صورت مسئولہ میں اگرحلالہ شرعیہ ہوجائے تواسی شوہرسے دوبارہ نکاح ہوسکتاہے ورنہ نہیں ۔
حوالہ جات
قال اللہ تعالی فی سورۃ البقرۃ 229،223:
الطلاق مرتان فامساک بمعروف اوتسریح باحسان۔۔۔فان طلقہافلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجاغیرہ۔
ھدایۃ " 2 /378:
وان کان الطلاق ثلاثافی الحرۃ الخ لاتحل لہ حتی تنکح زوجاغیرہ نکاحاصحیحاویدخل بہاثم یطلقہاأویموت عنہا۔
"صحيح البخاري '7 / 439 :
عن عائشة قالت طلق رجل امرأته فتزوجت زوجا غيره فطلقها وكانت معه مثل الهدبة فلم تصل منه إلى شيء تريده فلم يلبث أن طلقها فأتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله إن زوجي طلقني وإني تزوجت زوجا غيره فدخل بي ولم يكن معه إلا مثل الهدبة فلم يقربني إلا هنة واحدة لم يصل مني إلى شيء فأحل لزوجي الأول فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تحلين لزوجك الأول حتى يذوق الآخر عسيلتك وتذوقي عسيلته۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
05/ذیقعدہ 1447ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


