03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سنی عورت کا شیعہ مرد سے نکاح کا حکم
90009طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

ایک سنی عورت پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہے، اس کی عمر 38 سال ہے، وہ ایک ادارے میں ملازمت کرتی ہے، ملازمت سے پہلے اور پانچ چھ سال پہلے تک شتے آتے تھے، مگر بعض مسائل کی وجہ سے رشتہ نہ ہو سکا، اب رشتے آنا بند ہو گئے، ایک 41 سالہ مرد کا رشتہ آیا ہے،اس ادارے میں مردو عورت کی آپس میں شادی کا رواج ہے، کیونکہ ادارے سے باہر رشتہ کرنے میں کافی مسائل ہوتے ہیں، یہ مرد بھی اسی ادارے میں کام کرتے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ مرد کے والد شیعہ کی مجالس میں آتے جاتے تھے، کچھ عرصہ بعد انہوں نے اپنے آپ کو شیعہ کہلانا شروع کر دیا، والدہ ابھی تک اہل سنت میں سے ہی ہیں، مرد کے عقائد کی تفصیل یہ ہے کہ وہ کلمہ مسلمانوں والا ہی پڑھتے ہیں، حضور اکرم صلی اللہ علہ وسلم کو آخری نبی مانتے ہیں، خلفائے راشدین اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بھی عزت واحترام کرتے ہیں، نیز اپنے آپ کو زیدی، نقوی اور سید وغیرہ نہیں کہتا۔ سوال یہ ہے کہ کیاسنی عورت کا  اس شخص کےساتھ نکاح کرنا جائز ہے؟

وضاحت: سائل نے بتایا کہ یہ شخص اپنے آپ کو شیعہ کہلاتا ہے، محرم کی رسومات بھی کرتا ہے اور شیعوں کی دیگر چیزوں پر بھی عمل کرتا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 نکاح کے جائز ہونے کے لیے لڑکے اور لڑکی دونوں کا مسلمان ہوناضروری ہے، اگر ان میں کسی ایک کے بھی کفریہ عقائد ہوں تو ان کا آپس میں نکاح جائز نہیں ہو گا،  صورتِ مسئولہ میں چونکہ لڑکا اپنے آپ کو شیعہ کہلاتا ہے اور ان کے بعض رسوم و رواج پر عمل بھی کرتا ہے اور بہت سے شیعہ حضرات کفریہ عقائد بھی رکھتے ہیں، لہذا اگرکسی شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے شخص کا کوئی ایک عقیدہ  بھی کفریہ ہو، جیسے قرآن کریم میں تحریف (ردوبدل) یا ان کے بارہ اماموں کےبارے میں اس بات کا قائل ہوناکہ ان کی امامت اللہ جل شانہ کی طرف سےہےیا یہ عقیدہ رکھنا کہ امام گناہ سے معصوم ہوتاہے اوران کو حلال وحرام کا اختیارہے،یا جبرئیل امین سے وحی پہنچانے میں نعوذ باللہ غلطی کا عقیدہ رکھنا یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت کا قائل ہونا وغیرہ  اس طرح کے عقائد رکھنے والاشخص مسلمان نہیں ہے اور کسی سنی لڑکی کا اس  شخص سے نکاح جائزنہیں ہے، لہذا اگر کسی شخص نے ایسے آدمی کا نکاح پڑھا دیا تو وہ نکاح منعقد نہیں ہو گا۔

البتہ اگر اس شخص  کا مذکورہ بالا عقائد میں سے کوئی بھی کفریہ عقیدہ نہ ہوتو اس  صورت میں اگرچہ سنی لڑکی کا نکاح اس سےمنعقد ہوجائےگا، مگرچونکہ شیعہ لڑکا سنی لڑکی کا کفو نہیں ہے اور غیر کفو میں نکاح کرنے کے لیے اولیاء یعنی والد وغیرہ کی اجازت کا ہونا بھی ضروری ہے، ان کی اجازت کے بغیر نکاح منعقد نہیں ہو گا، نیز شیعہ اور اہلِ سنت کے درمیان  عقائد ونظریات اور رسوم ورواج میں اختلاف کی وجہ سے فریقین کے درمیان اختلاف ہو سکتا ہے اور پھر ان کی اولاد بھی اضطراب اور پریشانی کا شکار ہو گی، اس لئے کسی صحیح العقیدہ دیندار شخص سے نکاح کرنا چاہیے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشتہ طے کرتے وقت سب سے زیادہ دینداری کا لحاظ اور خیال رکھنے کی تاکید فرمائی ہے۔ کیونکہ نکاح کوئی وقتی اور عارضی چیز نہیں،بلکہ زندگی بھر کے لئے ایک ساتھی کے انتخاب کا مرحلہ ہے،اس لیے اس میں خوب غور وفکر اور سمجھداری سے کام لینا چاہیے، لہذا اگر اس شخص کے کفریہ عقائد نہ ہوں تو بھی اس کو ترغیب دینی چاہیے کہ وہ شیعہ مسلک کو چھوڑ کر اہل سنت کے مسلک میں داخل ہو جائے اور پھر اس کے بعد اس سے نکاح کیا جا سکتا ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 237) الناشر: دار الفكر-بيروت:

" لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن".

بدائع الصنائع (5/ 456) الناشر: دار الكتب العلمية:

" ومنها إسلام الرجل إذا كانت المرأة مسلمة فلا يجوز إنكاح المؤمنة الكافر ؛ لقوله تعالى: { ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا } ولأن في إنكاح المؤمنة الكافر خوف وقوع المؤمنة في الكفر ؛ لأن الزوج يدعوها إلى دينه ، والنساء في العادات يتبعن الرجال فيما يؤثرون من الأفعال ويقلدونهم في الدين إليه وقعت الإشارة في آخر الآية بقوله عز وجل : { أولئك يدعون إلى النار } لأنهم يدعون المؤمنات إلى الكفر ، والدعاء إلى الكفر دعاء إلى النار ؛ لأن الكفر يوجب النار ، فكان نكاح الكافر المسلمة سببا داعيا إلى الحرام فكان حراما ، والنص وإن ورد في المشركين لكن العلة ، وهي الدعاء إلى النار يعم الكفرة  أجمع فيتعمم الحكم بعموم العلة فلا يجوز إنكاح المسلمة الكتابي كما لا يجوز إنكاحها الوثني والمجوسي ؛ لأن الشرع قطع ولاية الكافرين عن المؤمنين بقوله تعالى : { ولن يجعلﷲ للكافرين على المؤمنين سبيلا } فلو جاز إنكاح الكافر المؤمنة لثبت له عليها سبيل ، وهذا لا يجوز".

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (5/ 2043) الناشر: دار الفكر، بيروت - لبنان:

قال الملاعلی القاری رحمہ اللہ :" («فاظفر بذات الدين») أي: فز بنكاحها. قال القاضي - رحمه ﷲ-: " من عادة الناس أن يرغبوا في النساء ويختاروها لإحدى أربع خصال عدها، واللائق بذوي المروءات وأرباب الديانات أن يكون الدين من مطمح نظرهم فيما يأتون ويذرون، لا سيما فيما يدوم أمره ويعظم خطره.

( «تربت يداك» ) يقال: ترب الرجل أي: افتقر كأنه قال: تلتصق بالتراب، ولا يراد به هاهنا الدعاء، بل الحث على الجد والتشمير في طلب المأمور به. قيل: معناه صرت محروما من الخير إن لم تفعل ما أمرتك به، وتعديت ذات الدين إلى ذات الجمال وغيرها، وأراد بالدين الإسلام والتقوى، وهذا يدل على مراعاة الكفاءة، وأن الدين أولى ما اعتبر فيها".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 46) دار الفكر-بيروت:

وبهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة.

الفتاوى الهندية (1/ 292) الناشر: دار الفكر، بيروت:

ثم المرأة إذا زوجت نفسها من غير كفء صح النكاح في ظاهر الرواية عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وهو قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - آخرا وقول محمد - رحمه الله تعالى - آخرا أيضا حتى أن قبل التفريق يثبت فيه حكم الطلاق والظهار والإيلاء والتوارث وغير ذلك ولكن للأولياء حق الاعتراض وروى الحسن عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أن النكاح لا ينعقد وبه أخذ كثير من مشايخنا رحمهم الله تعالى، كذا في المحيط والمختار في زماننا للفتوى رواية الحسن.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

19/شوال المکرم1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب