03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میڈیکل کمپنیوں کا ڈاکٹرز کو دوائیوں پر ڈسکاؤنٹ دینے کا حکم
90060اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلدلال اور ایجنٹ کے احکام

سوال

میرا نام اسداللہ ہے، میرا سوال یہ ہے کہ میرا فارماسیوٹیکل کا کاروبار ہے اور ہم لوگ ڈاکٹروں کو فیصد (percentage) دیتے ہیں، جب مریض ڈاکٹر کے پاس آتا ہے تو ڈاکٹر کو مریض کےبہتر علاج  کے لیے کوئی نہ کوئی دوا لکھ کر دینی ہوتی ہے، اور مارکیٹ میں ادویات بنانے والی بہت سی کمپنیاں موجود ہوتی ہیں۔

میں اس بات کو مزید واضح کرتا ہوں کہ مارکیٹ میں بہت سی ملٹی نیشنل فارماسیوٹیکل کمپنیاں ہیں اور تقریباً ہر کمپنی مختلف صورتوں میں انسینٹوز (Incentives) دیتی ہے، ان کی ادویات مہنگی ہوتی ہیں اور مشہور ہونے کی وجہ سے ان کی نقلی ادویات بھی بنتی ہیں، ہماری ادویات لوکل  ہوتی ہیں اور اچھی کوالٹی کی ہوتی ہیں، جنہیں میں خود بھی اپنے گھر میں استعمال کرتا ہوں،  قیمت کے لحاظ سے یہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی مصنوعات سے کم ہوتی ہیں، اور اس سے مریض کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ کم قیمت میں معیاری دوا مل جاتی ہے،آپ بتائیں کہ اس صورت میں بھی کیا یہ کام غلط ہے؟کیا یہ شرعی طور پر ناجائز ہے؟  براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

معلومات کے مطابق ادویات بنانے والی کمپنیاں اپنی ادویات کی فروختگی کی مقدار بڑھانے کے لیے ایک بڑی رقم مارکیٹنگ کے لیے مختص کرتی ہیں، جس میں ڈاکٹرز حضرات کو مراعات جیسے گاڑی، فریج یا کسی غیرملکی سفر کے اخراجات برداشت کرنا وغیرہ بھی شامل ہوتا ہے  اور پھر  کمپنیاں اس رقم کو اپنے اخراجات میں شمار کر کے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کرتی ہیں، جن کا بوجھ مریضوں کو برداشت کرنا پڑھتا ہے، دوسری طرف ڈاکٹر حضرات بھی مریضوں سے بھاری بھرکم فیس وصول کرتے ہیں، ایسی صورتِ حال میں کمپنیوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ ڈاکٹر حضرات کو انسینٹوز (Incentives) دیں، کیونکہ اس میں مریضوں کی حق تلفی ہوتی ہے، ڈاکٹر نے جب مکمل فیس وصول کی ہے تو اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ  مریض کو معیاری اور کم قیمت والی دوائی لکھ کردے، اس کے عوض اس کا کمپنی سے کسی قسم کی سہولیات لینا اور کمپنی کا اپنی ادویات کی تشہیر کے لیے ان کو انسینٹوز (Incentives) دینا جائز نہیں ہے۔ البتہ آپ اپنی دوائی کی پہچان کروانے اور مارکیٹنگ کے لیے ادویات کے نمونے (Samples)آپ ڈاکٹر حضرات کو دے سکتے ہیں، تاکہ معیاری اور سستی ہونے کی صورت میں ڈاکٹر مریض کو وہی  دوائی لکھ کر دے۔

البتہ اگر ڈاکٹرز کو مراعات نہ دینے کی صورت میں آپ کی ادویات بالکل فروخت نہ ہوتی ہوں اور کاروبار بند ہونے کا اندیشہ ہو تو اس کی تفصیل لکھ کر دارالافتاء سے دوبارہ سوال پوچھ سکتے ہیں۔

حوالہ جات

سنن أبي داود ت الأرنؤوط (5/ 433) الناشر: دار الرسالة العالمية:

 حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا ابن أبي ذئب، عن الحارث بن عبد الرحمن، عن أبي سلمة عن عبد الله بن عمرو، قال: لعن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - الراشي والمرتشي.

 محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

27/شوال المکرم1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب