03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا بیٹوں کی کمائی سے خریدا گیا پلاٹ وراثت شمار ہو گا؟
90062ہبہ اور صدقہ کے مسائلکئی لوگوں کو مشترکہ طور پرکوئی چیز ہبہ کرنے کا بیان

سوال

ہم چھ بھائی، ایک حقیقی بہن اور ایک ماں شریک بہن ہے، ہم میں سے دو بھائی علیحدہ جبکہ چار بھائی اور ایک حقیقی بہن والدین کے ساتھ جوائنٹ فیملی میں رہتے تھے جو اپنے جیب خرچ کے علاؤہ تمام رقم امی کے حوالے کر دیتے تھے، تاکہ ان پیسوں سے وہ گھر کا خرچ چلائیں اور ہماری شادی وغیرہ کے انتظامات کر سکیں۔

امی نے ان پیسوں سے اپنی زندگی میں ایک پلاٹ خریدا، جسے ایک بھائی کے نام جو نسبتاً مالی طور پر کمزور تھا اور اپنے نام کرایا۔  تاکہ انہیں خود بڑھاپے میں اور ہمارے ایک بھائی کو مستقبل میں تحفظ رہے۔ اب والدہ کا انتقال ہو چکا ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ یہ پلاٹ ترکہ شمار ہو گا یا اپنی بچت امی کے ہاتھ دینے والے بھائیوں کی مشترکہ ملکیت تصور ہو گی۔ اگر ترکہ ہے تو اس میں علیحدہ رہنے والے بھائیوں اور ماں شریک بہن کا بھی حصہ ہو گا؟

وضاحت:سائل نے بتایا کہ والدہ کو دیتے وقت باقاعدہ تملیک کی صراحت تو نہیں کی جاتی تھی، البتہ والدہ کے ہاتھ میں رقم چلے جانے کے بعد ہم یہ سمجھتے تھے کہ اب والدہ اس کی مالک ہیں، جس طرح چاہیں استعمال کریں۔  اس وقت بھائیوں کی شادیاں نہیں ہوئی تھی، والدہ چونکہ گھر کا مکمل انتظام سنبھالتی تھی، اس لیے انہی کو رقم دی جاتی تھی، باقی والدہ نے آدھا پلاٹ بھائی کے نام کرواتے وقت سب بھائیوں کے سامنے کہا تھا کہ یہ مالی اعتبار سے کمزور ہے،  اس لیے میں آدھا پلاٹ اس کو دے رہی ہوں،  کسی بھائی نے اس پر اعتراض نہیں کیا تھا۔جبکہ اس کے حصے کا آدھا پلاٹ متعین بھی کر دیا تھا، والدہ نے کہا تھا کہ فرنٹ کے دو مرلے میرے ہیں اور پچھلی طرف کے دو مرلے اس بیٹے کے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی وضاحت  سے معلوم ہوا کہ والدہ کو پیسے دینے کے بعد آپ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ اب یہ رقم والدہ کی ملکیت ہے، اور پھر جب والدہ نے  پلاٹ خرید کر آدھا ایک بیٹے کے نام کیا اور سب بیٹوں کو اس کے نام کرنے کی وجہ بھی بتائی کہ میں نے یہ پلاٹ اس کو اس لیے دیا ہے کہ یہ مالی اعتبار سے کمزور ہے اوربقیہ  آدھا پلاٹ والدہ نے اپنے نام کیا، اس تمام تصرف پر جب کسی بیٹے نے اعتراض نہیں کیا تو شرعی اعتبار سے آپ کی والدہ اور وہ بیٹا اس پلاٹ کے مالک بن گئے، کیونکہ والدہ نے بیٹے کے حصے کا پلاٹ متعین بھی کر دیا تھا کہ فرنٹ کے دو مرلے چھوڑ کر پچھلے دو مرلے بیٹے کے ہوں گے اور پلاٹ خالی ہونے کی وجہ سے تخلیہ کی صورت میں قبضہ بھی متحقق ہو گیا، اس لیے بیٹے کو آدھے پلاٹ کا ہبہ مکمل ہو گیا، اس کے علاوہ والدہ کے حصے کا آدھا پلاٹ ان کا ترکہ شمار ہو گا، جس میں ان کے تمام ورثاء اپنے شرعی حصوں کے مطابق حق دار ہوں گے، جن میں علیحدہ رہنے والے دو بھائی اور ماں شریک بہن بھی شامل ہو گی، البتہ علیحدہ رہنے والے دو بھائی چونکہ والدہ کو کوئی رقم نہیں دیتے تھے، جس کی وجہ سے گویا ان کی طرف سے اس پلاٹ کی قیمت میں کوئی رقم شامل نہیں کی گئی، اس لیے اخلاقی طور پر ان دونوں اور اس بھائی (جس کے نام والدہ نے آدھا پلاٹ کروایا تھا)کو چاہیے کہ وہ اس آدھے پلاٹ میں سے کچھ حصہ لے کر بقیہ حصہ دیگر بھائیوں اور بہنوں کے لیے چھوڑ دیں۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين (3/ 142) الناشر: دار الفكر-بيروت:

والحاصل أن الإشهاد عند الضمان أو الأداء شرط الرجوع كما في البحر. وقيده في الفتح بما إذا كان الصغير فقيرا واعتراضه في النهر بما مر من غاية البيان أي من حيث مطلق عموم التعليل بالعرف. وقد يقال: إن ما في الفتح مبني على عدم اطراد العرف إذا كان الصغير غنيا فله الرجوع وإن لم يشهد ولا سيما لو كان الأب فقيرا فتأمل. وبقي ما لو دفع بلا ضمان، ومقتضى التعليل بالعادة أنه لا فرق فيرجع إن أشهد وإلا لا.

الاختيار لتعليل المختار (3/ 50) دار الكتب العلمية – بيروت:       

(فإن قسم وسلم جاز) ; لأن بالقبض لم يبق شيوع وذلك (كسهم في دار و) مثله (اللبن في الضرع والصوف على الظهر والتمر على النخل والزرع في الأرض).

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

27/شوال المکرم1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب