| 88660 | وصیت کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
بے اولاد جوڑے کے انتقال کی صورت میں اپنی جائیداد کسی رفاہی ادارے کے نام کرسکتے ہیں ،چونکہ ان کے خاندان میں کوئی مستحق نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرنے کے بعد اپنی جائیداد کسی رفاہی ادارے کے نام کرنا وصیت ہے اور وصیت کل مال کے تہائی حصے میں معتبر ہوتی ہے،الا یہ کہ ورثا عاقل بالغ ہوں اور خوشی سے تہائی سے زیادہ مال میں بھی مرنے والے کی وصیت کے مطابق عمل کی اجازت دے دیں۔
لہذا مذکورہ صورت میں مرنے کے بعد ان کے ورثا کو اختیار ہوگا ،چاہیں تو تہائی مال سے زائد میں وصیت کو نافذ قرار دیں،یا اسے اپنے حصوں کے مطابق تقسیم کریں ،کیونکہ میرا ث کے حصوں کا حق دار بننے کے لئے ورثا کا مستحق ہونا ضروری نہیں۔
حوالہ جات
"بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع" (7/ 369):
"(ومنها) التقدير بثلث المال إذا كان هناك وارث، ولم يجز الزيادة، فلا تجوز الزيادة على الثلث إلا بإجازة الوارث الذي هو من أهل الإجازة، والأصل في اعتبار هذا الشرط ما روينا من حديث سعد - رضي الله عنه - أنه «قال لرسول ﷲ- صلى الله عليه وسلم -: أوصي بجميع مالي؟ فقال: لا، فقال: فبثلثيه؟ فقال: لا، فقال: فبنصفه؟ قال - عليه الصلاة والسلام -: لا، قال: فبثلثه؟ فقال - عليه الصلاة والسلام -: الثلث، والثلث كثير إنك إن تدع ورثتك أغنياء خير لك من أن تدعهم عالة يتكففون الناس» ، وقوله - عليه الصلاة والسلام -: «إن ﷲتبارك وتعالى تصدق عليكم بثلث أموالكم آخر أعماركم زيادة في أعمالكم» ؛ ولأن الوصية بالمال إيجاب الملك عند الموت، وعند الموت حق الورثة متعلق بماله إلا في قدر الثلث، فالوصية بالزيادة على الثلث تتضمن إبطال حقهم، وذلك لا يجوز من غير إجازتهم، وسواء كانت وصيته في المرض، أو في الصحة؛ لأن الوصية إيجاب مضاف إلى زمان الموت فيعتبر وقت الموت لا وقت وجود الكلام.
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
17/ربیع الثانی1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


