03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وفات کی صورت میں زوجین کا گفٹ ڈیڈ کے ذریعے دوسرے کو جائیدادکا مالک بنانا
88659ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

بے اولاد ازواج اپنی زندگی  میں اپنی جائیداد جو معمولی ہی ہے، ایک دوسرے کو گفٹ ڈیڈ کے ذریعے ہدیہ کرسکتے ہیں، یعنی میاں بیوی میں جو زندہ ہوگا جائیداد اس کی ملکیت میں رہ سکتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ نے جو صورت ذکر کی ہے کہ زوجین میں سے ہر ایک دوسرے کو اپنی جائیداد اس طور پر ہبہ کرے کہ اس کے مرنے کے بعد اس ملکیت میں  موجود جائیداد دوسرے کی ہوگی،یہ حقیقت میں وصیت ہے اور وارث کے حق میں شرعا وصیت کا اعتبار نہیں،بلکہ اسے شریعت کے جانب سے متعین حصہ ملے گا۔

جبکہ ہبہ کے مکمل ہونے کے لئے شرعا قبضہ ضروری ہے،صرف زبانی یا تحریری طور پر کوئی چیز کسی کو ہبہ کرنے سے ہبہ کا معاملہ مکمل نہیں ہوتا،اس لئے  قبضہ دیئے بغیر صرف گفٹ ڈیڈ بنوانے سے ہبہ مکمل نہیں ہوگا اور زوجین میں سے کسی کی وفات کی صورت میں دوسرے کو صرف اس کے شرعی حصے کے مطابق حصہ ملے گا،بقیہ جائیداد دیگر ورثا میں ان کے حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی۔

حوالہ جات

"بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع" (7/ 337):

"(ومنها) أن لا يكون وارث الموصي وقت موت الموصي، فإن كان لا تصح الوصية لما روي عن أبي قلابة - رضي الله عنه - عن رسول ﷲ- صلى ﷲ عليه وسلم - أنه قال «إن ﷲ تبارك وتعالى أعطى كل ذي حق حقه، فلا وصية لوارث» ".

"الدر المختار " (5/ 688):

"(و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح".

"الفتاوى الهندية" (4/ 380):

"وفي المنتقى عن أبي يوسف - رحمه ﷲ تعالى - لا يجوز للرجل أن يهب لامرأته ولا أن تهب لزوجها أو لأجنبي دارا وهما فيها ساكنان، وكذلك للولد الكبير، كذا في الذخيرة".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

17/ربیع الثانی1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب