| 90250 | زکوة کابیان | زکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان |
سوال
میری شادی کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے۔ جہیز میں شامل سامان مثلاً فریج، واشنگ مشین، اوون اور گھریلو استعمال کے تمام برتن ابھی تک بالکل نئے ہیں اور ایک مرتبہ بھی استعمال نہیں ہوئے۔ یہ تمام اشیاء صرف ذاتی اور گھریلو استعمال کے لیے ہیں، ان کی خرید و فروخت یا تجارت کی کوئی نیت نہیں ہے۔
اس کے علاوہ میرے پاس ایک کمیٹی کی رقم اور کچھ ذاتی بچت موجود ہے، دونوں کو ملا کر تقریباً تین لاکھ روپے بنتے ہیں، اور اس رقم پر ایک قمری سال بھی گزر چکا ہے۔
مزید یہ کہ میرے پاس ایک سونے کی انگوٹھی ہے اور ایک سونے کی انگوٹھی میری اہلیہ کے پاس ہے۔ دونوں انگوٹھیوں کا وزن تقریباً ڈھائی گرام فی انگوٹھی ہے۔
براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ اسلامی کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ:(1)- آیا مذکورہ جہیز کے گھریلو استعمال کے سامان پر زکاۃ واجب ہوتی ہے یا نہیں؟(2)- کمیٹی اور ذاتی بچت کی رقم پر زکاۃ واجب ہے یا نہیں، اور اگر واجب ہے تو اس کی مقدار کتنی بنتی ہے؟( 3)- میری اور میری اہلیہ کی سونے کی انگوٹھیوں پر زکاۃ واجب ہوتی ہے یا نہیں؟(4)- ان تمام امور کو سامنے رکھتے ہوئے مجموعی طور پر مجھ پر کل کتنی زکاۃ واجب ہوتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جہیز کے سامان پر زکاۃ نہیں ہوتی۔باقی آپ کے پاس موجود نقدی اور آپ کی اپنی سونے کی انگوٹھی کو ملا کر ان کی مجموعی مالیت اگر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو یا اس سے زائد ہو تو آپ اسی مال سے ڈھائی فیصد زکاۃ ادا کریں۔ بیوی کی انگوٹھی بیوی کی ملکیت ہے، آپ کی نہیں، اس لیے آپ کے نصاب میں بیوی کی انگوٹھی شامل نہ ہوگی۔
بیوی کے پاس اگر مذکورہ انگوٹھی کے علاوہ، سونا، چاندی، نقدی یا مال تجارت میں سے اتنا نہ ہو جس کی مجموعی مالیت زکاۃ کی نصاب کو پہنچتی ہو تو صرف مذکورہ انگوٹھی کی وجہ سے ان پر زکاۃ لازم نہیں ہے۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/16)
أما الأثمان المطلقة وهي الذهب والفضة أما قدر النصاب فيهما فالأمر لا يخلو إما أن يكون له فضة مفردة أو ذهب مفرد أو اجتمع له الصنفان جميعا، فإن كان له فضة مفردة فلا زكاة فيها حتى تبلغ مائتي درهم وزنا وزن سبعة فإذا بلغت ففيها خمسة دراهم لما روي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما كتب كتاب الصدقات لعمرو بن حزم ذكر فيه الفضة ليس فيها صدقة حتى تبلغ مائتي درهم فإذا بلغت مائتين ففيها خمسة دراهم.
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (2/ 208)
(ليس فيما دون مائتي درهم صدقة) لقوله عليه الصلاة والسلام ''ليس فيما دون خمس أواق صدقة'' والأوقية أربعون درهما (فإذا كانت مائتين وحال عليها الحول ففيها خمسة دراهم) ''لأنه عليه الصلاة والسلام كتب إلى معاذ رضي الله عنه أن خذ من كل مائتي درهم خمسة دراهم، ومن كل عشرين مثقالا من ذهب نصف مثقال''.
الدر المختار مع رد المحتار (3/173)
وشرط افتراضها عقل وبلوغ وإسلام وحرية وسببه ملك نصاب حولي تام فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد و عن حاجته الأصلية نام ولو تقديرا.
رد المحتار علی الدر المختار (3/224)
(نصاب الذهب عشرون مثقالا والفضة مائتا درهم كل عشرة) دراهم (وزن سبعة مثاقيل) والدينار عشرون قيراطا، والدرهم أربعة عشر قيراطا، والقيراط خمس شعيرات، فيكون الدرهم الشرعي سبعين شعيرة والمثقال مائة شعيرة، فهو درهم وثلاث أسباع درهم، وقيل يفتى في كل بلد بوزنهم وسنحققه في متفرقات البيوع (والمعتبر وزنهما أداء ووجوبا) لا قيمتهما.
زبیر احمد بن شیرجان
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
11/ذوالقعدہ1447
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زبیر احمد ولد شیرجان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


