03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مشت زنی کاحکم
90485جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

جناب، میرا ایک تھوڑا پیچیدہ سوال ہے کہ میری عمر 20 سال ہے اور مجھے بالغ ہوئے تقریباً 4 سال ہو چکے ہیں۔ شروع میں جب میں بالغ ہوا تو میں نے چند بار مشت زنی کی تھی، مگر اس کے بعد اب تک تقریباً 3 سال ہو چکے ہیں کہ میں نے یہ عمل نہیں کیا۔ اب مجھے کئی خدشات اور شبہات ہیں، مثلاً یہ کہ کہیں میں کمزور یا نامرد تو نہیں ہو گیا؟ تو کیا میں اپنی( satisfaction) تسلی کے لیے مشت زنی کر سکتا ہوں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مشت زنی ایک سنگین گناہ ہے جس سے مکمل پرہیز اور اجتناب ضروری ہے۔ ان شکوک و شبہات  کاکوئی اعتبارنہیں ۔بلکہ یہ عمل کرنےسےآدمی طبی اعتبارسےکمزورہوجاتاہےجوبعدمیں نقصان دہ ہوتاہے۔نیزان شبہات کی وجہ سےیہ حرام کام کرنےکی اجازت نہیں ہے۔ 

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي:(4/ 27):

 (قوله الاستمناء حرام) أي بالكف إذا كان لاستجلاب الشهوة، أما إذا غلبته الشهوة وليس له زوجة ولا أمة ففعل ذلك لتسكينها فالرجاء أنه لا وبال عليه كما قاله أبو الليث.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق:(2/ 293)

وهل يحل الاستمناء بالكف خارج رمضان إن أراد الشهوة لا يحل لقوله عليه السلام ناكح اليد ملعون ، وإن أراد تسكين الشهوة يرجى أن لا يكون عليه وبال كذا في الولوالجية.

 الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية: (2/ 170)

الاستمناء حرام، وفيه التعزير، ولو مكن امرأته، أو أمته من العبث بذكره، فأنزل، فإنه مكروه، ولا شيء عليه. 

رشيدخان

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

02/ذوالحجہ/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

رشید خان بن جلات خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب