03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کی طرف سے تین طلاقوں کادعوی ٰ
90615طلاق کے احکامطلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان

سوال

بیوی کا  بیان:

  لڑکی کو اس کے شوہر نے طلاق دی اور طلاق کے وقت لڑکی کی سگی بہن، جو کہ اس کی دیورانی بھی ہے، موجود تھی اور گواہ ہے۔ ایک رشتہ دار جس کا نام جمیل ہے، وہاں گھر می  ں کام کر رہا تھا۔ جس لڑکی کو طلاق دی گئی اس کے بھائی نے جا کرجمیل سے حال پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ گھر کے دوسرے پورشن میں کام کر رہا تھا۔ تو اُدھر لڑکے نے اپنی ماں کو کہا کہ میں تمہاری بھتیجی کو طلاق دیتا ہوں، گھر میں نہیں رکھنا چاہتا۔

اسی دن کچھ دیر بعد شور شرابا شروع ہو گیا تو بھاگتا ہوا میں(جمیل) وہاں گیا۔ تو لڑکی کی بہن نے کہا کہ یہ میری بہن کو طلاق دے رہا ہے، اور وہ بہن وہاں موجود تھی۔ باقی سب نے بھی کہا کہ یہ طلاق دے رہا ہے۔ میں نے اس کو ڈانٹا،سمجھایا اور کہا کہ طلاق عام بات نہیں جو ایسے بندہ دے دے۔ جمیل احمد کی اس گواہی کی آڈیو ریکارڈنگ موجود ہے، جو لڑکی کے بھائی کے پاس ہے۔

اس ایک طلاق کے بعد دونوں میاں بیوی کی صلح ہو جاتی ہے اور نارمل زندگی گزارنے لگتے ہیں۔

پھر لڑکا دبئی چلا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ بعد فون پر میاں بیوی کا ایک دوسرے سے جھگڑا ہو جاتا ہے۔ بقول لڑکی کے اس کے شوہر نے دو دفعہ اس کو کہا کہ "سنو، ایک تمہیں طلاق دیتا ہوں، دو تمہیں طلاق دیتا ہوں"۔ تیسری بار کہنے والا تھا کہ لڑکی نے کال کاٹ دی۔

ان دو طلاق کا لڑکے نے اپنے بڑے ماموں جلب خان، جو کہ لڑکی کا بھی سگا چچا ہے، کے سامنے اعتراف کیا کہ مجھ سے غصے میں غلطی سے دو دفعہ میں نے طلاق دی اور میں اب معافی تلافی کے لیے جو کہو گے میں کرنے کو تیار ہوں۔ ان دونوں طلاق کا گواہ جلب خان اس کی گواہی دینے کے لیے اب بھی موجود ہے۔

اس کے علاوہ ان دو طلاق کے سلسلے میں لڑکے کا سگا بھائی، جس کا نام خالق ہے، وہ جلب خان کے پاس گیا اور اعتراف کیا کہ دو طلاق مان گیا ہے اب کوئی حل نکلتا ہے تو نکلوا دیں۔پھر جلب خان نے اپنے بیٹے ضمیر سے رابطہ کر کے کہا کہ اپنے کزن واجد سے (جو لڑکی کا بھائی ہے)بات کرو اور لڑکی سے بیان لے کر مفتی صاحب کے پاس جاؤ۔پھر  ضمیر میرے پاس آیا کہ اپنی بہن سے حال احوال کر کے مجھے لکھ دو۔ میں نے پھر ضمیر کو اپنی بہن کو اور دوسری بہن کو جو کہ لڑکے کی بھابی بھی ہے ساتھ بٹھایا اور کہا کہ جو بھی بتانا اپنے ایمان کے ساتھ بتانا ہے۔پھر انہوں نے جو بتایا یا گواہی دی ضمیر اور لڑکے کا بھائی مفتی صاحب کے پاس گئے اور فتویٰ لگوایا۔ تو مفتی صاحب  نے کہا کہ اگر پہلے بھی طلاق دی ہے لڑکی کو اس کی بہن کے سامنے، اور اب بھی اگر اس نے دو طلاق کا اعتراف کر لیا ہے تو وہ طلاق ہو گئی ہے۔ اس کی گواہی دینے کے لیے ضمیر احمد موجود ہے کہ اس  لڑکے کے  بھائی خالق نے دو طلاق کا اس کے ساتھ جا کر فتویٰ لیا تھا۔ اب خالق بھی اپنی بات سے مکر گیا ہے۔

اب لڑکی کی بہن پہلی طلاق کی گواہ موجود ہے، جبکہ جمیل احمد کا بیان پہلے سے بدل گیا ہے۔ اس نے کہا کہ میں جب دوسری جگہ پر کام کر رہا تھا، جب شور شرابہ ہوا تو میں وہاں گیا تو لڑکی کی بہن نے بتایا کہ اس نے میری بہن کو طلاق دی ہے۔ جو ویڈیو آڈیو ریکارڈنگ موجود ہے، اس میں بھی وہ یہی کہتا ہے۔ مجھے لڑکی کی بہن نے بھی بتایا اور باقی سب نے بھی بتایا، اس کا ثبوت موجود ہے۔ 

اب وہ اس بات پر نہیں آتا، وہ کہتا ہے کہ صرف اس کی بہن نے مجھے بتایا کہ میرے بہن کو اس نے طلاق دی ہے۔ اب لڑکا مسجد میں جا کر کہتا ہے کہ میں حلف اٹھا کر کہتا ہوں کہ میں نے طلاق دی ہی نہیں، بلکہ صرف یہ پوچھا ہے کہ تم طلاق لینا چاہتی ہو تو دوں؟ دو دفعہ میں نے صرف یہی بات پوچھی ہے۔ 

پھر جب لڑکی سے پوچھا گیا تو لڑکی کہتی ہے کہ نہیں، اس نے مجھے دو دفعہ طلاق دی ہے، اس طرح دی ہے کہ "ایک میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، دو میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"، تیسری سے پہلے میں نے کال کاٹ دی۔ 

ایک طلاق کی گواہی تو بہن دیتی ہے، جو لڑکی کی سگی بہن اور لڑکے کی دیورانی بھی ہے۔ باقی دو طلاق کی گواہی جلب خان صاحب دیتے ہیں، جو کہ لڑکے کے ماموں اور لڑکی کے چچا ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں ہر جگہ گواہی دینے کو تیار ہوں، اس نے میرے سامنے دو طلاق کا اقرار بھی کیا اور معافی کی درخواست بھی کی۔ 

اس کا سگا بھائی خالق فتویٰ لینے کے لیے مفتی کے پاس گیا، تو اس کے فتویٰ لینے کی گواہی کے لیے ضمیر احمد موجود ہے، جو کہ جلب خان کا بیٹا ہے۔ 

اب جبکہ لڑکا قسم اٹھا کر مسجد میں جا کر دو طلاق سے مکر جاتا ہے، لیکن لڑکی کا بیان پھر بھی وہی ہے۔ مہربانی کر کے شریعت کے مطابق اس مسئلے کا فتویٰ دیا جائے۔

شوہر کا بیان :

پہلے جھگڑے میں جو بات کہی جا رہی ہے کہ بیوی کی بہن طلاق پر گواہ ہے حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوا تھا، اصل معاملہ یہ ہے کہ ہماری آپس میں لڑائی ہوئی، جس میں بیوی نے مجھے ان پڑھ جاہل اور گوار جیسے لفظ استعمال کیے اور میں نے غصہ میں دو تین تھپڑ مارے اور کہاں  اپنے گھر چلی جاؤ جب پڑھا لکھا لگوں تب آنا اور میری نظروں سے اوجھل ہو جاؤ دفع ہو جاؤ ،لیکن میں نے طلاق کے الفاظ نہیں کہے تھے۔

 بعد میں ہماری صلح ہو گئی اور ہم ساتھ رہنے لگے غیر ملک جانے کے بعد ایک رات 10 بجے ہماری فون پر تلخ کلامی ہوئی اس دوران میں نے کہا اگر تم طلاق لینا چاہتی ہو تو مجھے بتاؤ بعینہ یہی الفاظ دو بار بولے مگر میرا مقصد طلاق دینا نہیں تھا بلکہ سوالیہ انداز میں بات کر رہا تھا غصہ میں، اور اس نے فون کاٹ دی اور سمجھ لیا کہ میں نے دو طلاقیں دی جس کے بعد وہ گھر چلی گئی بعد میں جب جھلکان کو بھی سوال یا انداز میں بتانی تھی مگر اب انہیں بھی بطور گواہ پیش کیا جا رہا ہے پہلے مرتبہ تو میرے ذہن میں طلاق کا تصور بھی نہیں تھا اور دوسری مرتبہ اگرچہ طلاق کا ذکر ہے ایا مگر سوالیہ انداز میں نہ کہ طلاق دینے کی ارادے اور نصری الفاظ کے ساتھ باقی بیوی کی بہن کی گواہی میرے خیال میں غیر جانبدار نہیں کیونکہ وہ اس کی بہن ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ طلاق کے وقوع  کے لیےگواہوں   کا ہونا ضروری نہیں ہے ،بلکہ گواہوں کے غیر موجودگی میں بھی اگر شوہر طلاق دے تو  بھی  طلاق واقع ہوجاتی ہے۔

لہذا اگر سوال میں ذکر کردہ تفصیل درست ہے،تو مذکورہ بالا تفصیل میں بیوی  کےبیان کے  مطابق  جب بیوی پہلی دفعہ جھگڑے کے دوران ایک  طلاق کا دعوی کر رہی ہے   اور شوہر  منکر ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ بیوی اپنے دعویٰ پردو  گواہ پیش کریں  اگر گواہ نہ ہو تو پھر شوہر سے قسم لی جائے گی ،اگر شوہرقسم اٹھا لے تو اس سے قضاءً  کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔

اسی طرح بیوی کے بیان کے مطابق جب دوسری دفعہ شوہر نے فون پر یہ الفاظ"سنو، ایک تمہیں طلاق دیتا ہوں، دو تمہیں طلاق دیتا ہوں" کہے ہیں جبکہ شوہر کے بیان مطابق انہوں نےیہ الفاظ” اگر تم طلاق لینا چاہتی ہو تو مجھے بتاؤ “ کہے تھے ،تواس   کاحکم بھی یہی ہے کہ بیوی اپنے دعوی ٰ پر کوئی گواہ پیش کرے اگر گواہ نہ ہو تو پھر شوہر سے قسم لی جائے گی ،اگر شوہر قسم اٹھا لے تو اس سےبھی قضاءً  کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔

لہذاصورتِ مسئولہ میں اگرشوہر نے کوئی  طلاق نہیں دی ہے جیسا  کہ شوہر کا  بیان  ہے تو پھر بیوی کو چاہیے کہ خدا سے ڈرے اورشوہر پر تین طلاق کا ناحق دعویٰ کرکے اپنی عاقبت خراب نہ کرے احادیث شریفہ میں بلاوجہ طلاق کا مطالبہ کرنے والی عورت کے بارے میں سخت وعیدآئی ہے ، اس کے لئے جنت کی خوشبوبھی حرام ہوگی ،اگر  بیوی کا دعویٰ حقیقت  پر  مبنی نہ ہو تو صورت مسئولہ میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔

 تاہم اگرشوہرتین مرتبہ طلاق دینے سےمنکر ہو اور بیوی نے خوداپنے کانوں سے شوہر کےمنہ سےطلاق کا لفظ تین مرتبہ سنا ہو تو پھر اگر بیوی کےپاس دو معتبر مرد یا ایک مرد اور دو معتبر عورتوں کی گواہی مکمل ہوتو پھر تو طلاق واقع سمجھی جائےگی،اورشوہر کے انکارکا کوئی اعتبارنہیں ہوگا۔

اوراگر بیوی کے پاس گواہ  نہ ہوں توپھرتین طلاقوں کا ثبو ت گو قضاءً نہیں ہوگا،مگر جب بیوی نے طلاق کا لفظ خود شوہرسےتین مرتبہ سنا ہواوربیوی کو پورا یقین بھی ہو تو ایسی صو رت میں بیوی کے لئے جائز  نہیں کہ شوہرکو اپنی ذات پر قدرت دے اورشوہرسے ازدواجی تعلقات قائم کرے، بلکہ بچنے کی ہر ممکنہ کوشش کرے ، مال دے کرشوہرسےخلع حاصل کرلےیا شرعی قاضی یا شرعی پنچایت  یا کورٹ کے ذریعہ  الگ ہونے کی کوشش کروائے ۔

حوالہ جات

(العالمگیریة مصری کتاب الطلاق ج ۱ ص ۳۸۴)

 وھکذا صرح فی العالمگیریۃ بأنہ لا یقع الطلاق بأطلقک لأ نہ وعد.

المبسوط - (ج 7 / ص 386)

لو قال لزينب : أنت طالق إن شئت لم تطلق عمرة ؛ لأن هذا ليس بيمين بل هو تفويض المشيئة إليها بمنزلة قوله :

اختاري ، أو أمرك بيدك.

المبسوط - (ج 8 / ص 141)

قوله : أنت طالق ثلاثا إن شئت ، فإذا قامت قبل أن تشاء خرج الأمر من يدها فلا يقع عليها شيء ؛ لأن المشيئة منها لم توجد.

سنن الترمذي - (ج 2 / ص 329)

   "عن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أيما امرأة سألت زوجها طلاقاً في غير ما بأس، فحرام عليها رائحة الجنة»". (1/310، باب الخلع.

عن ثوبان ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (المختلعات هن المنافقات) هذا حديث غريب من هذا  الوجه وليس إسناده بالقوى . وروى عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال : (أيما امرأة اختلعت من زوجها من غير بأس ، لم ترح رائحة الجنة) 1199 حدثنا بذلك محمد بن بشار . حدثنا عبد الوهاب الثقفى حدثنا أيوب ،عن أبى قلابة ، عمن حدثه ، عن ثوبان : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : (أيما امرأة سألت زوجها طلاقا من غير باس ، فحرام عليها رائحة الجنة) وهذا حديث حسن .

(الدرا لمختار علی ہامش ردالمحتار)

امراۃ اذا ادعت علی الزوج انہ طلقہا فہی للزوج مالم یثبت الطلاق نہایہ ونصابھا ای الشھادۃ لغیر من الحقوق الخ کنکاح وطلاق رجلان او رجل و امرائتان ۔

(الدرا لمختار علی ہامش ردالمحتار کتاب الشھادۃ  ج ۴ ص ۵۱۵۔ط۔س۔ج۵ص۴۶۵) ظفیر

ونصابھا ای الشھادۃ لغیر من الحقوق الخ کنکاح وطلاق رجلان او رجل و امرائتان.

وفی الفتاوى الهندية - (3 / 353)

وإذا ادعت المرأة على زوجها أنه أبانها بثلاث أو بواحدة فجحد الزوج فحلفه القاضي فإن علمت أن الأمر كما قالت لا تسعها الإقامة معه ولا أن يأخذ ميراثها، كذا في النهاية.

وفی الفتاوى الهندية - (3 / 353)

وإذا ادعت المرأة على زوجها أنه أبانها بثلاث أو بواحدة فجحد الزوج فحلفه القاضي فإن علمت أن الأمر كما قالت لا تسعها الإقامة معه ولا أن يأخذ ميراثها، كذا في النهاية.

وفی الفتاوى الهندية - (5 / 313)

إن سمعت أنه طلقها ثلاثا وجحد الزوج ذلك وحلف فردها عليه القاضي لم يسعها المقام معه، وينبغي لها أن تفتدي بمالها أو تهرب منه.

وفی رد المحتار (3 / 251،باب الصریح تحت قوله:ولو صرح به دیّن فقط)

والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب.

صدام حسین بن ہدیت شاہ

دارالافتا ءجامعۃالرشید، کراچی

۲۴/ذوالحجہ /۱۴۴۷ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

صدام حسین بن ہدایت شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب