| 91326 | وقف کے مسائل | مسجد کے احکام و مسائل |
سوال
مسجد میں شٹرنگ کا سامان لا کر رکھا ہوا ہے جو لوگ کرائے پر لے کر جاتے ہیں، جس سے مسجد کو آمدنی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ مسجد کی کوئی آمدنی نہیں ہے۔ کیا ایسا کرنا شرعی لحاظ سے صحیح ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
امسجد میں شٹرنگ کا سامان لا کر رکھا ہوا ہے جو لوگ کرائے پر لے کر جاتے ہیں، جس سے مسجد کو آمدنی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ مسجد کی کوئی آمدنی نہیں ہے۔ کیا ایسا کرنا شرعی لحاظ سے صحیح ہے؟
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية ،الفتاوى الهندية (2/ 462):
القيم إذا اشترى من غلة المسجد حانوتا أو دارا وأراد أن يستغل ويباع عند الحاجة جاز إن كان له ولاية الشراء وإذا جاز أن يبيعه، كذا في السراجية.
الفتاوى العالمكيريہ ،الفتاوى الهندية (2/ 419):
ولا تجوز إجارة الوقف إلا بأجر المثل كذا في محيط السرخسي۔
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (2/ 370):
واعلم أن إجارة الوقف لا تجوز إلا بأجر المثل لو أكثر، ولو آجر الناظر بدون أجر المثل لا تصح الإجارة، ويلزم المستأجر تمام أجر المثل.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (2/ 490):
ولا يجوز تغيير الوقف عن هيئته فلا يجعل الدار بستانا ولا الخان حماما ولا الرباط دكانا، إلا إذا جعل الواقف إلى الناظر ما يرى فيه مصلحة الوقف۔
محمد ابراہیم قریشی بن عبدالرزاق
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
5/صفرالمصفر /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابرہیم قریشی بن عبد الرزاق | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


