021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسبوق کے لیے ثنا پڑھنے کا حکم
75156نماز کا بیانمسبوق اور لاحق کے احکام

سوال

اگر امام صاحب کے ساتھ قیام میں شریک نہ ہوسکیں،بلکہ رکوع یاقعدہ وغیرہ میں شامل ہوں تو اب ثنا پڑھنے کی کیا صورت ہوگی؟کیا اس کے بغیر نماز درست ہوجائے گی؟

o

نماز میں ثنا پڑھنا سنت ہے اس کے بغیر بھی نماز ہوجاتی ہے۔اگر امام نے قرات شروع کردی ہو تو ثنا نہیں پڑھی جائے گی اور رکعت فوت ہونے کی صورت میں جب فوت شدہ رکعت پڑھیں تو اس وقت ثنا پڑھی جائے گی۔

حوالہ جات

(‌سبحانك ‌اللهم ‌تاركا) وجل ثناؤك إلا في الجنازة (مقتصرا عليه) فلا يضم: وجهت وجهي إلا في النافلة، ولا تفسد بقوله - {وأنا أول المسلمين} [الأنعام: 163]- في الأصح (إلا إذا) شرع الإمام في القراءة سواء (كان مسبوقا) أو مدركا (و) سواء كان (إمامه يجهر بالقراءة) أو لا (ف) إنه (لا يأتي به) لما في النهر عن الصغرى: أدرك الإمام في القيام يثني ما لم يبدأ بالقراءة(الدر المختار،کتاب الصلاۃ:1/488)
(‌والمسبوق ‌من ‌سبقه الإمام بها أو ببعضها وهو منفرد) حتى يثني ويتعوذ ويقرأ، وإن قرأ مع الإمام لعدم الاعتداد بها لكراهتها مفتاح السعادة (فيما يقضيه) أي بعد متابعته لإمامه)الدر المختار،کتاب الصلاۃ:1/596)

       محمد انس جمال          

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

18جمادی الاولی1443ھ

n

مجیب

انس جمال بن جمال الدین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔