021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
موٹر سائیکل پر دوسے زیادہ آدمیوں کا سوار ہونا
..جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

موٹر سائیکل پر تین یا چار آدمیوں کاایک ساتھ سوار ہوناشرعا کیساہے ؟عموم بلوی کی وجہ سے اس کی اجازت ہوسکتی ہے یانہیں ؟

o

اس میں دوپہلو ہیں ،ایک یہ ہے کہ دو سے زیادہ افراد کا موٹر سائیکل پر سوار ہونا ٹریفک کے قوانین کی رو سے ممنوع ہے ۔ ٹریفک رولز عوام کے مفاد کیلئے بنائے گئے ہیں ،اس لیئے شرعا ان قوانین کی پابندی ضروری ہے ۔ٹریفک رولز کے مطابق موٹر سائیکل پر دو آدمی بیٹھ سکتےہیں ۔لہذ ا روڈ پر چلاتے ہوئے موٹر سائیکل پر دوآدمیوں سے زیادہ کا بیٹھنا قانونا اور شرعا درست نہیں ۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ دوآدمی اس طرح ایک دوسرے سے بدن ملادیں کہ دونوں کےدرمیان بالکل فاصلہ نہ ہو ،اس کا حکم یہ ہے کہ اگر دونوں کےدرمیان ایسےموٹے کپڑوں کا فاصلہ ہوجو ایک کے بدن کی حرارت کو دوسرے سے روک دیتاہوتو جب شہوت کاخطرہ نہ ہوتوجائز ہے اور اگر شہوت کا خطرہ ہو یاکپڑے ایسے باریک ہوں کہ ایک دوسرے کےبدن کی حرارت محسوس کی جاسکتی ہوتو ایسی صورت میں موٹر سائیکل پر اس طرح بیٹھنا کہ ستر کےاعضاایک دوسرے سے مل جائیں جائز نہیں۔

حوالہ جات

o شرح السير الكبير (ج 4 / ص 171): " طاعة الأمير فيما ليس فيه ارتكاب المعصية واجب" الموافقات (ج 2 / ص 52): " المصالح المرسلة، وهي التي لم يشهد لها أصل شرعي من نص أو إجماع، لا بالاعتبار ولا بالإلغاء، وذلك كجمع المصحف وكتابته؛ فإنه لم يدل عليه نص من قِبَل الشارع، ولذا توقف فيه أبو بكر وعمر أولا، حتى تحققوا من أنه مصلحة في الدين تدخل تحت مقاصد الشرع في ذلك، ومثله ترتيب الدواوين وتدوين العلوم الشرعية وغيرها؛ ففي مثل تدوين النحو مثلا لم يشهد له دليل خاص، ولكنه شهد له أصل كلي قطعي يلائم مقاصد الشرع وتصرفاته، بحيث يؤخذ حكم هذا الفرع منه، وأنه مطلوب شرعا وإن كان محتاجا إلى وسائط لإدراجه فيه"
..

n

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔