021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد کی زمین پر ایک بیٹے کی تعمیر
55201.3غصب اورضمان”Liability” کے مسائل متفرّق مسائل

سوال

ہم سات بھائی اور ایک بہن ہے،بڑے تینوں بیٹوں میں سے گاؤں والے بیٹے نے والدین کی زندگی میں والد کے حصے کی زمین پر اپنی مدد آپ کے تحت ایک گھر بنایا اور ہاں ساری زمین پر نہیں بلکہ زمین کے کچھ حصے پر گھر بنایا اور کچھ زمین الگ سے اور اپنے لئے خرید لی اور کچھ عرصہ پہلے زلزلے میں متاثرہ گھروں کے لئے جو حکومتی تعاون ہوا اس مد سے آنے والی رقم کو صرف2بھائیوں نے وصول کیا جو بڑے تھے کیا اس گھر اور بھائی کی الگ سے خریدی ہوئی زمین اور حکومت کی طرف سے ملنے والی امداد میں باقی ایک بہن اور چھوٹے 5بھائیوں یعنی بڑے بیٹے نے خریدی وہ زمین ابھی تک غیر آباد ہے اور وہ اسے اپنی ملکیت بتاتے ہیں اور ان 2بیلوں کا اور بھینس اور کچھ سامان جو والدین چھوڑ گئے اس کا کوئی ذکر ہی نہیں اس کے متعلق کچھ رہنمائی تفصیلاً مرحمت فرمائیں کہ ترکہ کے تقسیم کے مرحلے میں باقی اولاد کو شریعت کیا حکم دیتی ہے کیونکہ یہ معاملہ ترکہ تقسیم ہونے سے پہلے ہے۔

o

 والد کی زندگی میں  والد  کی زمین پر  ایک بیٹے  نے والد کی اجازت  سے  جو  تعمیر کی ہے وہ   اگر   اپنے لئے تعمیر  کی تھی تو زمین والد کی ملک ہوگی اور مکان کا مالک  تعمیر کرنے  والا بیٹا ہوگا ۔لیکن اس کو صرف  ملبہ کی  قیمت ملے گی  اور زمین والد ہی کی ملک  ہوگی دوسرے بیٹے بیٹیوں کا  والد کی زندگی  میں  اس میں کوئی حق نہیں ، والد کی وفات کے بعد  تمام ورثاء  اس زمین میں شریک ہونگے ، زلزلہ کے وقت   حکومت کی  طرف سے  ملنے والی امداد  کا جوحصہ والد   کے گھر     کے لئے ملی ہے وہ والد کی ملک شمار ہوگی، اس کو  کسی بیٹے نے والد  کےمکان کی تعمیر  میں خرچ کیا تو جگہ پر  خرچ ہوئی، لہذا وہ والد  کی ملک شمار  ہوکر  ترکہ میں   شامل ہوگئی ،اس  میں سے  اگر کچھ  رقم والد کی اجازت سے اپنے ذاتی  مصارف  میں خرچ  کی تو اس کا حساب نہیں ہوگا ،اور بغیر اجا زت کے  جتنا لیا ہے  وہ ترکہ  میں  شامل ہوگا  اور سب ورثاء پر تقسیم ہوگا  اس کے علاوہ  جو جائیداد   جس بیٹے نے   اپنی ذاتی کمائی سے الگ  سے خریدی ہے وہ ترکہ میں شامل نہ ہوگی۔

والدین  نےبیل بھینس  اور جو بھی سامان بڑے  بیٹے کے پا س رکھوایا  اگر اس کو صاف طور پر ہبہ  نہیں کیا تھا  تو ان سب کا حساب ہوگا ، اور ترکہ میں  شامل ہونگے ۔  

حوالہ جات

سئل فی رجل بنی بمالہ لنفسہ قصرا فی دار ابیہ باذنہ ثم مات ابوہ عنہ وعن ورثہ غیرہ فھل یکون القصر لبانیہ ویکون کالمستعیر ﴿الجواب﴾نعم کما صرح بذلک فی حاشیہ الاشباہ عند قولہ من بنی فی ارض غیرہ بامرہ فہو لمالکھا ومسئلة العمارة کثیر ذکرھا فی الفصول العمادیة ،و الفصوولین ،وغیرھا وعبارة االمحشی بعد قولہ ویکون کا لمستعیر فیکلف قلعھا متی شاء ﴿تنقیح الحامدیہ ج۲ص۸۸ کتاب العاریة ﴾۔
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔