021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میراث کی تقسیم کا طریقہ
..میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ایک شخص عبداللہ نامی فوت ہوا۔ بوقت وفات اس کی بیوی سلیم اختر اورہمشیرہ حلیم خاتون زندہ تھیں۔ محمد خان کی کوئی اولاد نہ تھی۔ عبداللہ کی وراثت کس طرح اور کس حصہ سے تقسیم ہوگی ؟ o

o

عبداللہ کے کل مال میں سےایک چوتھائی یعنی 25 فیصد حصہ اس کی بیوی،نصف یعنی پچاس فیصدحصہ بہن اور باقی 25فیصد حصہ خیر محمد اور منظور خاتون کو ملے گا۔ اس لیے کہ یہ دونوں عبداللہ کے والد(جہانخان)کے چچا کی اولادیا جد بعیدیعنی پردادا کی فروع ہیں اور ان سے قریبی کوئی اور ایسا وارث موجود نہیں جو عصبہ بن سکے، لہذا باقی سارا مال ان دونوں کو عصبہ ہونےکی بنیاد پر ملےگا۔پھر اس25فیصدمیں سے دو تہائی خیر محمد اور ایک تہائی منظور خاتون کو ملے گا یعنی 16.66فیصد خیرمحمد اور 8.33فیصدحصہ منظور خاتون کو دیا جائے گا۔آسانی کے لیے ذیل میں جدول ملاحظہ ہو: سلیم بی بی 25فيصد حلیم خاتون 50فيصد خیرمحمد 16.66فیصد منظور خاتون 8.33فیصد ٹوٹل 99.99=100.000

حوالہ جات

قال اللَّه تعالى في القرأن الكريم: { وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ...... } [النساء: 12] وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين: " (ثم جزء جده العم) لأبوين ثم لأب ثم ابنه لأبوين ثم لأب (وإن سفل ثم عم الأب ثم ابنه ثم عم الجد ثم ابنه) كذلك وإن سفلا فأسبابها أربعة: بنوة ثم أبوة ثم أخوة ثم عمومة..." وفی الشامیہ تحتہ: "(قوله: وإن سفلا) أي ابن عم الأب وابن عم الجد....." (ج:6,ص:775, دارالفكر-بيروت) وفی تبيين الحقائق: (ثم الأعمام ثم أعمام الأب ثم أعمام الجد على الترتيب) أي أولاهم بالميراث بعد الإخوة أعمام الميت لأنهم جزء الجد فكانوا أقرب، وقد قال - عليه الصلاة والسلام - «ألحقوا الفرائض بأهلها فما أبقت فلأولى رجل ذكر» ثم أعمام الأب لكونهم أقرب بعد ذلك لأنهم جزء الجد ثم أعمام الجد لأنهم أقرب بعدهم... (ج:6,ص:238, المطبعة الكبرى الأميرية)
..

n

مجیب

سمیع اللہ داؤد عباسی صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔