021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کفارہ کے روزوں میں عدم تسلسل کا حکم
56575القرآنالفاتحہ

سوال

اگر ایک عورت روزے کے کفارے کے طور پر ساٹھ روزے رکھنے کی نیت سے روزے شروع کرے، پھر درمیان میں سخت بیمار ہوجائے اور ایک یا دو روزے اس سے چھوٹ جائیں ، تو کیا وہ پھر ابتدا سے شروع کرےگی یاجتنے رہ گئے ہیں اس کو پورا کرےگی؟

o

مذکورہ صورت میں نئے سرے سے ساٹھ روزے رکھنے ہوں گے، پہلے رکھے ہوئے روزوں کا اعتبار نہیں ہوگا، لیکن عورت کے ماہواری کے ایام اگر درمیان میں آجائے تو پھر نئے سرے سے شروع کرنے کی ضرورت نہیں، صرف بقیہ روزوں کو پورا کرنا کافی ہے۔

حوالہ جات

قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: فإن لم يجد صام شهرين متتابعين فإن لم يستطع أطعم ستين مسكينا لحديث الأعرابي المعروف في الكتب الستة فلو أفطر ولو لعذر استأنف إلا لعذر الحيض(رد المحتار:2/ 412) قال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ: اعلم أن الصيامات اللازمة فرضا ثلاثة عشر سبعة منها يجب فيها التتابع، وهي رمضان وكفارة القتل وكفارة الظهار وكفارة اليمين وكفارة الإفطار في رمضان والنذر المعين وصوم اليمين المعين. (البحر الرائق :2/ 278) واللہ سبحانہ و تعالی أعلم اسلام الدین دارالافتا ء، جامعۃالرشید، کراچی 1/ربیع الثانی 1438ھقال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: فإن لم يجد صام شهرين متتابعين فإن لم يستطع أطعم ستين مسكينا لحديث الأعرابي المعروف في الكتب الستة فلو أفطر ولو لعذر استأنف إلا لعذر الحيض(رد المحتار:2/ 412) قال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ: اعلم أن الصيامات اللازمة فرضا ثلاثة عشر سبعة منها يجب فيها التتابع، وهي رمضان وكفارة القتل وكفارة الظهار وكفارة اليمين وكفارة الإفطار في رمضان والنذر المعين وصوم اليمين المعين. (البحر الرائق :2/ 278)
..

n

مجیب

اسلام الدین صاحب

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔