021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
چیز کو بیچ کر پھر اسی چیز کو کم قیمت پر خریدنے کا حکم
..خرید و فروخت کے احکامبیع فاسد ، باطل ، موقوف اور مکروہ کا بیان

سوال

ہمارے علاقے میں یہ مسئلہ عام ہوتا جارہا ہے کہ اگر کسی کو پیسوں کی ضرورت ہو،اور کوئی اس کو ادھار میں پیسے نہیں دے رہا ہو تو وہ بارگین جاکر بارگین والوں سےمہنگے داموں پر گاڑی ادھار میں لے لیتا ہے،اورپھر وہی گاڑی بارگین والے اس سے کم قیمت میں خرید کر ان کو نقد پیسے دے دیتے ہیں،مثلا:کسی نے بارگین والوں سے سات لاکھ میں گاڑی لی تو پھر بارگین والے اس سے وہی گاڑی چارلاکھ میں واپس نقد پیسے دے کر لے لیتے ہیں۔کیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟وجہ بتائیں۔اس کے بارے میں شرعی احکامات بتائیں۔اور جو ایسا کرتا ہے،اس کا مال حلال ہے کہ نہیں؟

o

ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔اگر رقم کی ضرورت ہو تو یہ ممکن ہے کہ کہیں سے ادھار خرید کر عام بازار میں سستی بیچ دی جائے۔جس سے خریدی ہے اسی کو بیچنا جائز نہیں،اور جو ایسا کرتا ہے،اس کی بچت حرام ہے ۔

حوالہ جات

(الهداية في شرح بداية المبتدي:3/ 47) قال: "ومن اشترى جارية بألف درهم حالة أو نسيئة فقبضها ثم باعها من البائع بخمسمائة قبل أن ينقد الثمن الأول لا يجوز البيع الثاني" وقال الشافعي رحمه الله: يجوز لأن الملك قد تم فيها بالقبض فصار البيع من البائع ومن غيره سواء وصار كما لو باع بمثل الثمن الأول أو بالزيادة أو بالعرض. ولنا قول عائشة رضي الله عنها: لتلك المرأة وقد باعت بستمائة بعدما اشترت بثمانمائة: بئسما شريت واشتريت، أبلغي زيد بن أرقم أن الله تعالى أبطل حجه وجهاده مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إن لم يتب؛ ولأن الثمن لم يدخل في ضمانه ،فإذا وصل اليه المبيع ،ووقعت المقاصة بقي له فضل خمسمائة وذلك بلا عوض، بخلاف ما إذا باع بالعرض لأن الفضل إنما يظهر عند المجانسة. (تحفة الفقهاء :2/ 57) وَمِنْهَا أَن يَشْتَرِي شَيْئا بِثمن مَعْلُوم ثمَّ يَبِيعهُ من البَائِع بِأَقَلّ مِمَّا بَاعه قبل نقد الثّمن فَإِن بَاعه بِجِنْس الثّمن الأول بِأَن اشْتَرَاهُ بِأَلف دِرْهَم ثمَّ بَاعه مِنْهُ بِخَمْسِمِائَة دِرْهَم قبل نقد الثّمن فَهُوَ فَاسد عندنَاوَعند الشَّافِعِي صَحِيح ،وَإِن كَانَ بِخِلَاف جنس الثّمن الأول جَازَ. وَالْأَصْل فِي ذَلِك حَدِيث عَائِشَة رَضِي الله عَنْهَا فِي قصَّة زيد بن أَرقم وَهُوَ مَعْرُوف
..

n

مجیب

فضل حق صاحب

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔