021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مقتدیوں کاامام کی پانچویں رکعت میں اتباع نہ کرنا
57118القرآنالفاتحہ

سوال

ابھی ہم نماز عشاء میں چوتھی رکعت میں بیٹھ گئے۔کسی مقتدی کی بار بار اصرار پر امام صاحب مقدار تشہد پورا کئے بغیر کھڑا ہوگیا، کچھ مقتدی اس طرح التحیات میں بیٹھے رہے،انہیں یقین تھا کہ رکعت پوری پڑھی ہیں۔امام پانچویں رکعت کا سجدہ کرنے سے پہلے بیٹھ کر سجدہ سہو کیا تو وہ مقتدی(جوکھڑے نہیں ہوئے تھے)بھی سجدہ سہو میں شریک ہوگئے،اور آخر میں سلام پھیر لیا۔امام اور پانچویں رکعت کےلیے کھڑے ہوجانے والے مقتدیوں کی نماز تو ہوگئی،لیکن جو مقتدی بیٹھے رہے،ان کی نماز کا کیا حکم ہے؟

o

ان کی نماز بھی ہوگئی؛ اس لیے کہ جب امام پانچویں رکعت کے لیے کھڑا ہوا تو مقتدیوں پر اس کی پیروی کرنا لازم نہیں تھی۔لہذا ان کی نماز میں کوئی خلل واقع نہیں ہوا۔

حوالہ جات

" وإن سها عن القعدة الأخيرة حتى قام إلى الخامسة رجع إلى القعدة مالم يسجد " لأن فيه إصلاح صلاته وأمكنه ذلك لأن ما دون الركعة بمحل الرفض.قال: " وألغى الخامسة " لأنه رجع إلى شيء محله قبلها فترتفض " وسجد للسهو " لأنه أخر واجبا " وإن قيد الخامسة بسجدة بطل فرضه " وتحولت صلاته نفلا عند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله " خلافا لمحمد رحمه الله على ما مر " فيضم إليها ركعة . (الهداية في شرح بداية المبتدي:1/ 75) وأنه ليس له أن يتابعه في البدعة والمنسوخ، وما لا تعلق له بالصلاة ،فلا يتابعه لو زاد سجدة ،أو زاد على أقوال الصحابة في تكبيرات العيدين ،أو على أربع في تكبيرات الجنازة ،أو قام إلى الخامسة ساهيا.وفي العناية إنما يتبعه في المشروع دون غيره. وفي البحر: المخالفة فيما هو من الأركان أو الشرائط مفسدة لا في غير. (الدر المختار وحاشية ابن عابدين:1/ 470 ( واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
..

n

مجیب

فضل حق صاحب

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔