021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تھریشر کو اجارہ پر لینا
..اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

سوال یہ ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے ٹریکٹر کے لیے تھریشر لی کہ میں محنت وغیرہ کرونگا اور آپ کا تھریشر ہوگا اور تھریشر والےکو 26 من گندم دے گا ، کیا یہ جائز ہے؟

o

تھریشر کو مقررہ مدت تک مثلا تین ماہ ، معلوم اجرت کےبدلے کرایہ پر لینا جائز ہے۔ لہذا مذکورہ صورت میں تھریشر کو 26 من گندم کے بدلے کرایہ پر لینا جائز ہے ،لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ کرایہ کی مدت معلوم ہو۔

حوالہ جات

"قال في المبسوط: لا بد من إعلام ما يرد عليه عقد الإجارة على وجه ينقطع به المنازعة ببيان المدة والمسافة والعمل، ولا بد من إعلام البدل ۔" حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 4)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔