021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عقد اجارہ میں تعیین مدت کاحکم
60127/56اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

2004 میں ہم نے صدر میں ایک دوکان کرایےپر لی تھی،اس وقت کرایا 5000 روپے ماہانہ طے ہوا تھا،جس وقت معاملہ طے پا رہا تھا اس دوران مدت کا ذکر جانبین میں سے کسی کی بھی جانب سے نہیں کیا گیا تھا،بس یہ طے ہوا تھا کہ ہر ماہ کا کرایہ 5000 روپے ہوگا۔2007 تک یہ کرا یا چلتا رہا،پھر آہستہ آہستہ بڑھاتے بڑھاتے 2017 میں 22000 روپے تک کرایہ پہنچ گیاہے۔گذشتہ ماہ مالک کو جب کرایہ ادا کردیا تو اس نے کہا کہ اگلے مہینے سے 25000 روپے کرایہ ہوگا،اگر ادا کر سکتے ہو تو ٹھیک ہے ورنہ دوکان خالی کرو۔ہم نے 13 سال محنت کرکے دوکان سیٹ کی ہے اب ہماری مجبوری سے وہ فائدہ اٹھارہا ہے۔ہماری مارکیٹ کے آس پاس دوکانوں کا کرایہ 20 ہزار سے 23 ہزار تک ہے اس سے زیادہ کسی کا نہیں ہے۔پوچھنا یہ ہے کہ کیا ہم کسی طرح دباؤ ڈال کر مالک کو 22000 روپے کرایہ لینے پر مجبور کرسکتے ہیں یا نہیں؟

o

مذکورہ سوال کے مطابق یہ اجارہ فاسد ہے،اس لیے کہ اجارہ میں مدت کی تعیین ضروری ہے ورنہ معاملہ فاسد ہوجاتاہے۔ موجودہ صورت میں مالک کو 22000 کرایہ پر مجبور کرنے کے بجائے فریقین پر لازم ہے کہ وہ اس پرانے عقد کو فسخ کریں،فسخ کرنے کی صورت میں مالک کو طے شدہ اجرت کے بجائے اجرت مثل ملے گی اور اجرت مثل جب آس پاس میں 20 سے 23 ہزار تک ہے تو اس کا اوسط لیا جائے گا وہ مالک کو ادا کرنا ضروری ہوگا،معاملہ ختم کرنے کے بعد اگر فریقین چاہیں تو نئے سرے سے ایگریمنٹ کریں اور اس میں مدت بھی طے کریں تاکہ آئندہ نزاع کا سبب نہ ہو اور جو کرایہ مالک کی طرف سے طے ہو خواہ وہ مارکیٹ کے عرف سے زیادہ ہی کیوں نہ ہو، آپ اگر لینا چاہیں تواسی کرایہ پر لے سکتے ہیں یا جو کرایہ آپس کی رضا مندی سے طے ہوجائے اس پر لے سکتے ہیں، مالک کی رضامندی کے بغیر اجرت میں کمی نہیں کرسکتے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 46) (تفسد الإجارة بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكل ما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) كجهالة مأجور أو أجرةأو مدة أو عمل، وكشرط طعام عبد وعلف دابة ومرمة الدار أو مغارمها وعشر أو خراج أو مؤنة رد أشباه۔۔۔۔ الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 50) (آجر حانوتا كل شهر بكذا صح في واحد فقط) وفسد في الباقي لجهالتها، والأصل أنه متى دخل كل فيما لا يعرف منتهاه تعين أدناه، وإذا مضى الشهر فلكل فسخها بشرط حضور الآخر لانتهاء العقد الصحيح۔۔۔
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔