021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عورت کا عرصہ کے بعد اپنے حصہ کا مطالبہ کرنا
..میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ایک عورت جو بوڑھی ہو چکی ہے اسکی اولاد بھی بڑھاپے کے قریب ہے۔ اس عورت نے زمین کی تقسیم کے وقت اپنے حصے کی زمین اپنے بھائیوں کو دے دی۔ مگر اب چند سال میں اس عورت اور اس کے ایک بھائی کے تعلقات خراب ہونے کے بعد عورت نے بھائی سے اپنی زمین واپس کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کیا اب اس کے بھائی کو زمین واپس کرنی چاہیے یا نہیں ؟ اگر نہیں کرے گا تو کیا گناہگار ٹھہرے گا ؟ا، یاد رہے کہ بھائی اب زمین طاقت کی بنا پر واپس نہیں کر رہا۔ شرعی رہنمائی مطلوب ہے۔

o

عورت نے جو حصہ نہیں لیاتھا وہ اسی کا ہے چاہے کئی سال بیت جائیں۔ اب اگر عورت مطالبہ کرے تو اسےشرعا اس کا حق ہےاور اس مطالبہ کو پورا کرکے اس کے حصے کی زمین ا س کے حوالہ کرنا بھائی پر لازم ہے۔ لیکن اگر تقسیم ہوچکی تھی اور اس خاتون نے اپنے حصہ پر قبضہ بھی کرلیا تھا اور اور اس کے بعدیہ زمین اس بھائی کو ہبہ کی تھی تو اس صورت میں عورت کو اپنا حق واپس لینے کا حق نہیں ہے۔

حوالہ جات

"عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «ألا من ظلم معاهدا، أو انتقصه، أو كلفه فوق طاقته، أو أخذ منه شيئا بغير طيب نفس، فأنا حجيجه يوم القيامة»" سنن أبي داود (3/ 171) " (ويمنع الرجوع فيها) حروف (دمع خزقه) يعني الموانع السبعة الآتية" الدر المختار (5/ 699) قال رحمہ اللہ: " (قوله: لذي رحم محرم) خرج من كان ذا رحم، وليس بمحرم، ومن كان محرما، وليس بذي رحم درر. فالأولى كابن العم، فإذا كان أخاه من الرضاع أيضا فهو خارج أيضا واحترز عنه بقوله نسبا فإنه ليس بذي رحم محرم من النسب كما في الشرنبلالية والثاني كالأخ رضاعا (قوله منه نسبا) الضمير في منه للرحم فخرج الرحم غير المحرم كابن العم، والمحرم غير الرحم كالأخ رضاعا، والرحم المحرم الذي محرميته لا من الرحم كابن عم هو أخ رضاعا وعلى هذا لا حاجة إلى قوله نسبا۔ الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 704) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔