021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جس قرض کے وصول ہونے کی اُمیدنہ ہو اس کی زکوۃ کاحکم
..زکوة کابیانان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی

سوال

میں نے 6 اگست2006ء کو 100000 روپے ایک آدمی کو بطورقرض دیے تھےاور اس قرض کی زکوۃ تین سال تک ادا کرتا رہا ۔ قرضہ ملنے کی امید نہیں تھی ،لہذا زکوۃ دینا بند کر دیا ،گیارہ جولائی 2016ءکو اس نے قرض کی رقم واپس کی ۔تقریبا10سال بعد قرضہ واپس کیا گیا۔ ازروئےشریعت ہماری رہنمائی فرمائیں کہ اس 100000جوکہ قرضہ کی رقم ہےاس میں گذشتہ7سال کی زکوۃ دینی ہے یا اسی سال سےزکوۃ کی ادائیگی شروع کریں۔7سال کی زکوۃ کی ادائیگی کی صورت میں زکوۃ کی کل کتنی رقم ادا کرنا پڑے گی؟

o

جس قرض کے وصول ہونے کی اُمیدنہ ہو اس کے حکم میں مشائخ احنافؒ کی مختلف روایات ہیں جن میں باہم تصحیح کا اختلاف بھی ہے،حکیم الاُمت حضرت تھانویؒ نے امداد الفتاوی میں اس روایت کو ترجیح دی ہے کہ جس قرض کی وصولی کی اُمید ضعیف ہو یا بلکل نہ ہوتو ایسا قرض جب تک وصول نہ ہو جائے اس پر زکوٰۃ واجب نہیں،نیز ایساقرض آئندہ جب وصول ہو جائےتو ایک سال گزرنے کے بعدصرف اسی قدر پر زکوٰۃ واجب ہو گی جس قدر وصول ہوا ہو،گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ لازم نہ ہو گی،البتہ جس وقت اس کا کچھ حصہ وصول ہو جائے اس وقت اگر دوسرے اموال زکوٰۃ موجود ہوں تو ان میں ضم کر کے اس کی زکوٰۃ ادا کی جائے گی،لہذا مذکورہ صورت میں آپ پر گذشتہ سالوں کی زکوٰۃ واجب نہیں۔

حوالہ جات

"قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالی:واعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لكن لا فورا بل (عند قبض أربعين درهما من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم." (الدر المختارمع رد المحتار:2/ 305) "قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی:قولہ:( ولو كان الدين على مقر مليء أو ) على ( معسر أو مفلس ) أي محكوم بإفلاسه ( أو ) على ( جاحد عليه بينة ) وعن محمد لا زكاة ، وهو الصحيح ، ذكره ابن ملك وغيره لأن البينة قد لا تقبل ( أو علم به قاض ) سيجيء أن المفتى به عدم القضاء بعلم القاضي ( فوصل إلى ملكه لزم زكاة ما مضى ) وسنفصل الدين في زكاة المال." (رد المحتار:6/ 480) "قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی: قوله 🙁 ولو له بينة في الأصح ) نقل في النهر عن الخانية أنه لو كان جاحدا وللدائن بينة عادلة لا يحل له أخذ الزكاة ، وكذا إن لم تكن البينة عادلة ما لم يحلفه القاضي ، ثم قال ولم يجعل في الأصل الدين المجحود نصابا ، ولم يفصل بين ما إذا كان له بينة عادلة أو لا . قلت : وقدمناأولالزكاةاختلافالتصحيحفيه،ومالالرحمتيإلىهذاوقالبلفيزماننايقرالمديونبالدينوبملاءتهولايقدرالدائنعلىتخليصهمنهفهوبمنزلةالعدم ." (ردالمحتار:7/ 225) "(ولو كان الدين على مقر مليء) أي غني مقتدر (أو معسر تجب الزكاة لإمكان الوصول إليه ابتداء) أي في المليء (أو بواسطة التحصيل) يعني في المعسر فكان من قبيل اللف والنشر على السنن (وكذا لو كان على جاحد وعليه بينة أو علم القاضي به لما قلنا) يعني من إمكان الوصول إليه. قال الإمام فخر الإسلام: ولو كان له بينة عادلة وجبت الزكاة فيما مضى لأنه لا يعد تاويا لما أن حجة البينة فوق حجة الإقرار، وهذا رواية هشام عن محمد، وفي رواية أخرى عنه قال: لا تلزمه الزكاة لما مضى وإن كان يعلم أن له بينة، إذ ليس كل شاهد يقبل ولا كل قاض يعدل." (العناية شرح الهداية:2/ 167)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔