021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نفع کمانے کی غرض سےسستی چینی خرید کر دوبارہ اسی کو مہنگی بیچنا
60403خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

ایک شخص(زید) نے نفع کمانے کی غرض سے کریانے والی دوکان سے بیس من چینی خریدی اور خرید کر دوکان والے کو دیدی کہ جب چینی کی قیمت بڑھ جائے گی تو وہ اس سے چینی یا بیس من چینی کی جو قیمت بنے گی وہ لے لے گا، دوکان والے نے بطور ثبوت کے پرچی بنا کر دیدی اب دوکان والا اس چینی کو فروخت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ زید جب چینی مانگے گا یا اس کی قیمت مانگے گا میں اس کو دے دوں گا ۔۔۔ کیا یہ معاملہ شرعا درست ہے؟ رہنمائی فرمائیں

o

پوچھےگئے سوال میں ابہام ہے،لہذاکسی متعین جہت پر اس سوال کا جواب نہیں دیا جاسکتا ،اس لیے کہ سوال میں اس بات کا کہیں ذکر نہیں کہ چینی خریدنے والا دوبارہ چینی اس بیچنے والے کو فروخت کرتا ہے۔ اب اس میں یہ احتمال موجود ہے کہ مشتری بائع کو بیس من چینی بطور قرض کے دیتا ہے اور چینی مثلیات میں سے ہے،لہذا مدت کے بعد یا تو بیس من چینی لے یا اس دن کی قیمت وصول کرلے تو یہ جائز ہے۔ اگر مشتری بائع کو دوبارہ فروخت کرتا ہے تو اس صورت میں یہ عینہ کی صورت بن جائے گی ، جوکہ جائز نہیں،اس لیے اس سوال کی پوری تفصیل لکھ کر دوبارہ معلوم کریں۔

حوالہ جات

"فصل في القرض (هو) لغة: ما تعطيه لتتقاضاه، وشرعا: ما تعطيه من مثلي لتتقاضاه وهو أخصر من قوله (عقد مخصوص) أي بلفظ القرض ونحوه (يرد على دفع مال) بمنزلة الجنس (مثلي) خرج القيمي (لآخر ليرد مثله) خرج نحو وديعة وهبة. " (الدر المختار:5/ 161) "(وصح) القرض (في مثلي) هو كل ما يضمن بالمثل عند الاستهلاك (لا في غيره) ويصح التصرف في القرض قبل قبضه على الصحيح والمراد بالتصرف نحو البيع والهبة والإجارة والوصية وسائر الديون۔" ( درر الحكام شرح غرر الأحكام: 2/ 184) " (ولا يستقرض القيمي) ؛ لأنه مختص بالمثلي وهو كل شيء يكال أو يوزن نحو الحنطة والشعير والسمسم والتمر والزبيب ونحو ذلك. (درر الحكام شرح غرر الأحكام: 2/ 189) (لا) يصح اتفاقا ككتابة وإجارة و (بيع منقول) قبل قبضه ولو من بائعه۔" (الدر المختار 5:/ 147) وقال ابن عابدین-رحمہ اللہ- تحتہ:" لأن بيعه من بائعه قبل قبضه فاسد كما في المنقول۔" (رد المحتار:5/ 147)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔