021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زندہ اور میت کی طرف سے ایک مشترک جانور میں قربانی کاحکم
..قربانی کا بیانقربانی کے متفرق مسائل

سوال

میری کوشش یہی ہوتی ہے کہ میں اجتماعی قربانی کے نظم میں شریک ہو کر قربانی کروں،اب ایک تشویش یہ ہے کہ ایک جانورجس میں سات حصے ہوتے ہیں اس میں کچھ شرکاء اپنی طرف سے یا اپنے زندہ رشتداروں کی طرف سے قربانی کر رہے ہوں جبکہ بعض اپنے مرحومین کی طرف سے قربانی کر رہے ہوں تو کیا سب کی قربانی ادا ہوجائے گی یامرحومین کی طرف سے کرنے کی وجہ سے کسی کی بھی ادا نہیں ہوگی؟

o

اس قسم کی قربانی جائز ہے اور ہر ایک کی قربانی ادا ہوجائے گی،اس لیے کہ مقصد سب کا اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لیے قربانی کرنا ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 326) (وإن) (مات أحد السبعة) المشتركين في البدنة (وقال الورثة اذبحوا عنه وعنكم) (صح) عن الكل استحسانا لقصد القربة من الكل. البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 202) قال - رحمه الله -: (وإن مات أحد السبعة، وقال الورثة: اذبحوا عنه وعنكم صح.
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔