021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عقیقہ کرنا
62240قربانی کا بیانعقیقہ کا بیان

سوال

ہمارےگاؤں میں اگرکسی کالڑکاپیداہوجائےتولڑکےکاباپ دوبکرےقربان کرتاہےاوربچےکی ماں کی طرف سےکوئی رشتےدارنانی ،ماموں،خالہ وغیرہ بچے کےلیےسونےکی انگوٹھی بنواتاہے اوراس کی انگلی میں پہناتاہےاوراس کےگھروالےبکروں کی قربانی سےپہلے بچےکےہاتھ اورپاؤں میں مہندی لگاتےہیں ۔پھر سات سال بعدبچے کاختنہ کراتےہیں ۔ کیابچے کے پیدا ہونےپر دوبکرےقربان کرنا ضروری ہے؟ اگر کوئی آدمی دوبکرےقربان نہیں کرسکے،توایک بکراقربان کر سکتاہے؟

o

لڑکےکی پیدائش پردوبکرےذبح کرنامستحب ہے،ضروری نہیں،لہذاگردوبکروں کی وسعت نہ ہوتوایک بھی کرسکتاہے۔

حوالہ جات

قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ : يستحب لمن ولد له ولد أن يسميه يوم أسبوعه، ويحلق رأسه ،ويتصدق عند الأئمة الثلاثة بزنة شعره فضة أو ذهبا ،ثم يعق عند الحلق عقيقة إباحة على ما في الجامع المحبوبي، أو تطوعا على ما في شرح الطحاوي،.وهي شاة تصلح للأضحية، تذبح للذكر والأنثى ،سواء فرق لحمها نيئا أو طبخه بحموضة أو بدونها مع كسر عظمها أو لا، واتخاذ دعوة أو لا، وبه قال مالك. وسنها الشافعي وأحمد سنة مؤكدة، شاتان عن الغلام وشاة عن الجارية، غرر الأفكار ملخصا، والله تعالى أعلم. (رد المحتارعلی الدر المختار:6/ 336)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔