021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جن کے صحابی ہونے کادعوی کرنا
..علم کا بیانعلم کے متفرق مسائل کابیان

سوال

بعض حضرات سے یہ کہتے سناہےکہ جنات کی عمریں زیادہ ہوتی ہیں تقریبا1000سال اور1500سال تک۔ اب سوال یہ ہے کہ اگرکسی شخص کی ملاقات ہوجاتی ہے کسی ایسے جن سے جس کی عمرزیادہ ہواورمسلمان ہواوروہ دعوی کرے کہ اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کاشرف حاصل ہواہے تواس دیکھنے والے شخص کوکیادرجہ دیاجائے گا؟اگراس کوتابیعت کادرجہ دیاجائے توکیااس کازمانہ خیرالقرون کازمانہ کہلائے گا؟

o

الاشباہ والنظائر میں امام سیوطی رحمہ اللہ کی طرف منسوب ایک اصولی مسئلہ کاذکرہے جس سے اس مسئلہ میں ہمیں راہنمائی ملتی ہے ۔مسئلہ یہ ہے انسان کاجن سے یاجن کاانسان سے کوئی حدیث نقل کرنادرست ہے یانہیں ؟امام سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جن کاانسان سے روایت کرنادرست ہے ،لیکن انسان کاجن سے کوئی حدیث لینایااس کوروایت کرنادرست نہیں ،اوراس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس ان کی عدالت اورصدق کوپرکھنے کاکوئی معیارنہیں ،لہذااس وجہ سے حدیث کے معاملہ میں احتیاط کے پیش نظران سے روایت نہیں لی جائے گی ،لہذاصورت مسؤولہ میں صحابی ہونے کادعوی کرنابھی چونکہ ایک اہم مسئلہ ہے اوراس پربہت سارے مسائل متفرع ہوتے ہیں ،جبکہ ہمارے پاس کسی جن کے دعوی کوپرکھنے کی کوئی صورت نہیں ہے ،اس لئے مذکورہ دعوی کرنے والے جن کودیکھنے والے کے بارےمیں تابعی ہونے کاحکم نہیں لگایاجاسکتااورنہ ہی یہ کہاجاسکتاہے کہ اس نے خیرالقرون کازمانہ پایاہے۔

حوالہ جات

الأشباه والنظائر - حنفي - (ج 1 / ص 360): ”قبول رواية الجني ذكره صاحب اكام المرجان وذكر الأسيوطي أنه لا شك في جواز روايتهم عن الإنس ما سمعوه سواء علم الإنسي بهم أو لا واذا أجاز الشيخ من حضر دخل الجن كما في نظيره من الإنس، وأما رواية الإنس عنهم فالظاهر منعها؛ لعدم حصول الثقة بعد التهم “
..

n

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔