021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کی بہن سےشبہہ کےبناپرہمبستری کرنےسےنکاح پراثرنہیں پڑتا
61149نکاح کا بیانمحرمات کا بیان

سوال

میں ایک تعلیمی ادارہ میں سیکورٹی گارڈکی نوکری کرتاہوں،اوریہاں دیوٹی کی ترتیب یہ ہےکہ آدھامہینہ(15دن)صبح سےشام تک ایک شفٹ ہوتی ہےاورآدھامہینہ شام سےصبح تک۔جب میں صبح سے شام کےشفٹ میں تھا،میں نے اپنی ڈیوٹی پوری کرلی تومیرےدوست(سیکورٹی گارڈ)کافون آیا کہ میں آج رات کی ڈیوٹی پرنہیں آسکتااس لیےمیری جگہ آپ دیوٹی کریں(ہم ایک دوسرے کےایسےکام آتےرہتےہیں)،میں نےگھرفون کیا کہ آج رات ڈیوٹی کی وجہ سے گھرنہیں آؤں گا،لیکن رات کےایک ڈیڑھ بجےکےقریب میرادوست ڈیوٹی پرآگیا،ہم نےآدھا ایک گھنٹہ گپ شپ لگائی،پھرمیں گھرکےلیےروانہ ہوگیا۔گھرکےدروازےپرلاک لگایاہےاورچابی میرےپاس ہوتی ہے،اس لیےدرواہ بجانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔گھرمیں داخل ہواتومعمول کےمطابق بجلی نہیں تھی،کمرےمیں آنےکےبعدکپڑےتبدیل کرلیےاورپھر بیوی کی بہن(جوشادی شدہ ہےلیکن پسندکی شادی نہ ہونےکی وجہ سےشوہرسے لڑائی جھگڑارہتاتھااس لیےشوہر نے ڈیڑھ سال پہلےطلاق دیدی)کوبیوی سمجھ کراس کےپاس آیااور اس کےساتھ کھیلنےلگااس نےدوتین مرتبہ میرےہاتھ کو اپنے آپ سےدورکیا،چہرہ بھی دوسری طرف تھااوراوپرچادرتھی،میں سمجھاکہ جب میں نےکہاتھاکہ میں رات کوگھرنہیں آؤں گا شاید اس وجہ سے موڈخراب ہے اورپھرگھرآنے کی وجہ بھی بتائی ،لیکن اس نےچہرہ میری طرف نہیں کیااورچہرہ چھپائےرکھا،میری نئی نئی شادی ہوئی تھی اس لیےمیں اپنےآپ کو نہیں روک سکالیکن اس نےبھی اس کےبعد کچھ نہیں کہااورصرف میں نےحاجت پوری کی ،اس کےبعداس نےمجھےجھٹکےکےساتھ اپنےسےدورکیا۔میری عادت صوفےپرسونےکی ہے، اس لیےوہاں سےآکرمیں صوفےپرسوگیااوروہ صبح میرے جاگنےسے پہلےگھرچلی گئی تھی۔معمول کےمطابق جب رات کی ڈیوٹی کرکےصبح سویرےگھرآتاہوں تومیری بیوی سورہی ہوتی ہےاس لیےمیں صوفےپرسوجاتاہوں ،پھربہت دیرتک سونےکےبعدناشتہ کرتاہوں۔دس بارہ دن بعدباتوں باتوں میں مجھےپتاچلاکہ اس رات میری بھابھی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اورمیرابھائی بھی گھرمیں نہیں تھاتومیری بیوی اس کےساتھ تھی اوروہیں سوگئی تھی۔میں نےپوچھاکہ ہمارےکمرےمیں کون تھی؟توانہوں نےکہا کہ میری بہن تھی اوررات گزارکرصبح چلی گئی۔پھرایک مولوی صاحب جوہمارے بھائی کےبچوں کوٹیوشن پڑھاتاہےاس سےیہ مسئلہ پوچھاایک آدمی غلطی سےبیوی کےبہن سےحاجت پوری کرلےتوشریعت میں اس کیاحکم ہے؟توانہوں نےکہاکہ اس طرح کرنےسے نکاح ٹوٹ جاتاہے۔جناب مولوی صاحب کیا میرانکاح ٹوٹ چکاہے؟میرےمسئلہ کاکوئی حل ہوتوبتادیں،میں اپنےگھروالوں اورسسرال کوبیوی کوچھوڑنے کی وجہ بھی نہیں بتاسکتا۔اگربتادیاتوانجام بہت براہوگا۔خداکی قسم مجھےتوپتا ہی نہیں چلاکہ اس رات وہ تھی لیکن وہ توجاگ رہی تھی کم ازکم اس کوتوبتاناچاہیے تھا۔

o

صورت مسئولہ میں آپ کانکاح نہیں ٹوٹا ،البتہ جب تک آپ کی بیوی کی مذکورہ بہن کوایک حیض نہ آجائے اس وقت تک آپ کااپنی بیوی سےالگ رہناضروری ہے۔

حوالہ جات

وفي الخلاصة: وطئ أخت امرأته لا تحرم عليه امرأته(الدر المختار)(قوله: وفي الخلاصة إلخ) هذا محترز التقييد بالأصول والفروع وقوله: لا يحرم أي لا تثبت حرمة المصاهرة، فالمعنى: لا تحرم حرمة مؤبدة، وإلا فتحرم إلى انقضاء عدة الموطوءة لو بشبهة قال في البحر: لو وطئ أخت امرأة بشبهة تحرم امرأته ما لم تنقض عدة ذات الشبهة، وفي الدراية عن الكامل لو زنى بإحدى الأختين لا يقرب الأخرى حتى تحيض الأخرى حيضة واستشكله في الفتح ووجهه أنه لا اعتبار لماء الزاني ولذا لو زنت امرأة رجل لم تحرم عليه وجاز له وطؤها عقب الزنا. اهـ. (رد المحتار:4/ 116،دارالمعرفۃ) ولو كان الزوج وطئ أخت امرأته بشبهة فما دامت هذه تعتد لا يحل له الاستمتاع بامرأته فإن مات، وهي في العدة فليس لزوجته أن تغسله لحرمتها عليه، ولكن ترث منه وتجب عليها عدة الوفاة فلو انقضت عدة أختها بعد وفاة زوجها كان لها أن تغسله؛ لأن سبب الحرمة قد زال . (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي :1/ 235 مکتبۃامدادیۃ) وكذا لو كانا مجوسيين فأسلم ولم تسلم هي حتى مات لا تغسله .فإن أسلمت غسلته ، خلافا لأبي يوسف ، هكذا ذكر في المبسوط وذكر أيضا مثله فيمن وطئ أخت زوجته بشبهة حتى حرمت عليه زوجته إلى أن تنقضي عدة الموطوءة فمات فانقضت لا تغسله زوجته .وكذا لو أن نفس الزوجة وطئت بشبهة فاعتدت فمات زوجها فانقضت عدتها بأثره . (فتح القدير :2/ 76،مکتبۃرشیدیۃ) (قوله والمنكوحة نكاحا فاسدا والموطوءة بشبهة وأم الولد الحيض للموت وغيره) أي: عدة هؤلاء ثلاث حيض في الحرة التي تحيض وحيضتان في الأمة ووضع الحمل إن كانت حاملا والأشهر إن كانت آيسة وتركه لظهوره وفهمه مما قدمه.... ومثال الموطوءة بشبهة أن تزف إليه غير امرأته والموجودة ليلا على فراشه إذا دعاها فأجابته. (البحر الرائق :4/ 235،مکتبۃرشیدیۃ) (قال:) وإذا كان للرجل أربع نسوة فتزوج خامسة ودخل بها فرق بينه وبينها لبطلان نكاحها وعليه لها الأقل من المسمى، ومن مهر المثل وعليها العدة ولم يقرب الأربع حتى تنقضي عدة الخامسة؛ لأنه لو قربهن كان جامعا ماءه في رحم خمس نسوة بالنكاح، ولأن عدة تلك الواحدة يمنع ابتداء نكاح الأربع إذا اقترن بنكاحهن فيمنع الوطء إذا طرأ على نكاحهن، كعدة الأخت لما منعت نكاح الأخت إذا اقترنت به منعت الوطء إذا طرأت عليه، حتى إذا وطئ أخت امرأته بشبهة فليس له أن يطأ امرأته حتى تنقضي عدة أختها. (المبسوط للسرخسي :5/ 173) ولو مات الزوج وهي معتدة من وطء شبهة ليس لها أن تغسله وكذا إذا انقضت عدتها من ذلك الغير عندنا، خلافا لأبي يوسف؛ لأنه لم يثبت لها حل الغسل عند الموت فلا يثبت بعده، وكذلك إذا دخل الزوج بأخت امرأته بشبهة ووجبت عليها العدة ثم مات فانقضت عدتها بعد موته فهو على هذا الخلاف. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع :1/ 305)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔