021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مستحق مبیع کا حکم( خریدی ہوئی زمین پراستحقاق کادعوی کرنا)
..خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

بعدازگذارش عرض ہے کہ جس طرح یہ بات آپکے علم میں ہے کہ احسن آباد اور حاجی اللہ بخش کے درمیان مسئلے لوگوں کو درپیش ہیں اسی طرح ہم بھی اس مسئلےکا شکار ہیں اور اس میں آپ سے اس مسئلے میں آپکی رہنمائی درکار ہے ۔ 1۔ فریق اول جناب عبداللہ صاحب جنہوں نے یہ پلاٹ سن 2000 میں احسن آباد کی کی فائل پر خریدا اور سن 2017 تک اس کی کوئی حفاظت نہ کی اور نہ کوئی خیال پرسش کی اور اس پراپرٹی سے لاتعلق رہے ۔ 2۔ فریق دوئم محمد عبدالرحمن جنہوں نے یہ پلاٹ سن 2012 میں خریدا اور اسکی حفاظت بھی کی اور اسکی تعمیر سن2016 / 2017 ایک سال میں وقفے وقفے سے تعمیر کی اور جب یہ پلاٹ 2012 میں خریدا تو 2012 سے 2015تک اس پرآو یزاں کیا کہ اگر کوئی اس پلاٹ کا دعوے دار ہے تو برائے مہربانی دیے گئے نمبر پر رابطہ کریں مگر کسی نے نہ رابطہ کیا ۔ اور اب ایک ماہ قبل جناب عبداللہ صاحب انہوں نے اس پلاٹ سے تعلق کا اظہار کیا جس پر میں نے اپنے تمام بڑوں کے سامنے بڑے اچھے ماحول میں گفتگو کروائی اور ان کے سامنے اپنے تمام خیالات اس پلاٹ سے متعلق اخراجات بتائے اور ان سے گذارش کی کہ میں آپ سے یہ نہیں کہہ رہا کے آپ مجھے جو آج اس پلاٹ کی قیمت ہے وہ ادا کریں بلکہ میں نے ان سے کہا ہے کہ آپ مجھے اس پلاٹ کی لاگت بمع خرید ادا کر دیں اور پلاٹ لیں لیں یا جو آپ نے سن 2000 میں جتنے کا خریدا ہے وہ رقم مجھے سے لیے لیں مگر جناب عبداللہ صاحب کا موقف ہے کہ آپ صرف لاگت کے حقدار ہیں خرید کے نہیں جناب مفتی صاحب آپ اس مسئلے میں ہماری رہنمائی فرمائیں کے میں جو پلاٹ پہ لاگت کی کیا وہ حق مال کی ہے اور خرید کی رقم ادا کی وہ نا حق مال کی ہے جبکہ میں عبداللہ صاحب کو کسی قسم کا نقصان نہیں دے رہا۔ میری آپ سے گذارش ہے کہ آپ اس مسئلے میں دین کی روشنی میں فتوی عنایت کریں ۔

o

اگر خریدی ہوئی چیز کا کوئی دعویدار آجائے اور یہ بھی ثابت ہو جائے کہ وہی اس چیز کا اصل مالک ہے،تو اسے اختیار ہے کہ اپنی چیز وصول کرے یا بیچنے والے سےاس کی قیمت لے کر چیز خریدار کے پاس رہنے دے یا پھر خریدار سے باہمی رضا مندی سے مناسب رقم لے کر دست بردار ہو جائے۔ مذکورہ صورت میں چونکہ احسن آباد کی فائل اصل ہے ، لہذا اگر یہ بات یقینی ہو کہ یہ فائل اسی متنازعہ پلاٹ کی ہی ہے تو اس پلاٹ کے اصل مالک عبداللہ صاحب ہی ہیں۔ لہذا ان کو یہ اختیار ہے کہ صرف تعمیر کی موجودہ قیمت ادا کر کے پلاٹ تعمیر سمیت اپنے قبضے میں لے لیں ۔ خریدار محمد عبدالرحمن کو چونکہ یہ پلاٹ جعلی فائل پربیچا گیا ہے لہذا اس کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی ادا کی ہوئی قیمت اس شخص سے وصول کر لے جس نے اسے پلاٹ بیچا تھا۔ البتہ اگر فریقین باہمی رضامندی سے کوئی مناسب رقم طے کر کے صلح کر لیں اور پھر کوئی ایک وہ رقم ادا کر کے پلاٹ لے لے تو بھی درست ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 204) لو مستحقا ظهر المبيع ... له على بائعه الرجوع بالثمن الذي له قد دفعا الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 205) (قوله فاستحقت) أي الدار وحدها دون ما بناه فيها (قوله وقيمة البناء مبنيا) أي يقوم مبنيا فيرجع بقيمته لا مقلوعا والمراد بالبناء ما يمكن نقضه وتسليمه كما يأتي فلا يرجع بما أنفق من طين ونحوه ولا بأجرة الباني ونحوه (قوله على البائع) ثم هذا البائع يرجع على بائعه بالثمن فقط لا بقيمة البناء وعنده مجلة الأحكام العدلية (ص: 178) (مادة 921) ليس للمظلوم أن يظلم آخر بسبب كونه قد ظلم واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔