021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پنشن کی رقم کی تقسیم کا طریقہ
62038/57ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اِس مسئلے کے بارے میں کہ میرا بھائی جاوید فوت ہو گیا ہے اور وہ سرکاری ملازم تھا۔ورثہ میں دو بیویاں،تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔حکومت کی طرف سے تمام ورثہ کے نام پر الگ الگ رقم آتی ہے اور بچوں کے نام پر کچھ زمین کی رقم بھی آئی ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ بھائی کی اولاد کے نام پر آنے والی رقم ان میں برابر تقسیم ہو گی یا بیٹوں کو دوگنا ملے گا اور بیٹیوں کو ایک گنا؟

o

یہ رقم جاوید کی اولاد میں برابر تقسیم ہوگی،کیونکہ یہ رقم حکومت کی طرف سے عطیہ ہے،میت کا ترکہ نہیں ہے کہ قانونِ میراث کے تحت تقسیم ہو۔ حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”چونکہ میراث مملوکہ اموال میں جاری ہوتی ہے اور یہ وظیفہ محض تبرع و احسان سرکار کا ہے،بدوں قبضہ کے مملوک نہیں ہوتا،لہذا آئندہ جو وظیفہ ملے گا اس میں میراث جاری نہیں ہوگی،سرکار کو اختیار ہے جس طرح چاہے تقسیم کردے۔(امدادالفتاوی:4/342،مکتبہ دارالعلوم،کراچی)

حوالہ جات

قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ: الھبۃ ) … هي) لغة: التفضل على الغير ولو غير مال. وشرعا: (تمليك العين مجانا) أي بلا عوض …(وسببها إرادة الخير للواهب)، وقبولها سنة. قال صلى الله عليه وسلم : «تهادوا تحابوا» .(الدر المختار مع رد المحتار:5/ 687)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔