021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ڈاڑھی منڈے شخص/فاسق معلن سے قطع تعلقی کرنے کا حکم
62316/57جائز و ناجائزامور کا بیانسلام اورچھینک کا جواب دینے کے آداب

سوال

فاسق معلن(ڈاڑھی منڈھا)سے قظع تعلق کرنا،اس کو سلام نہ کرنا اور اس کے سلام کا جواب نہ دینا کیسا ہے؟

o

قطع تعلق صرف انتہائی حالات میں جہاں تعلق رکھنے میں شعائرِ دین کا مذاق اڑانے جیسے کسی قبیح امر کی تائید کا اندیشہ پیدا ہوتا ہو اور محدود مدت(توبہ تک) کےلیے کیا جاتا ہے۔آج کل دین سے دوری،جہالت اور دین و اہلِ دین کے خلاف زہریلے پروپیگنڈے کی وجہ سے بہت سے مسلمان اِس واجب حکم سے واقف نہ ہونے اور بہت سے واقف ہونے کے باوجود کم ہمتی یا طعن و تشنیع کا نشانہ بننے کے خوف سے ڈاڑھی نہیں رکھتے،ایسے لوگوں سے قطع تعلق کیا جائےگا تو وہ کیسے دین کے قریب آئیں گے؟اِس لیے قطع تعلق کے بجائے محبت ہو حکمت سے سمجھانا چاہیے۔البتہ اگر کسی سے تعلق پیدا کر کے سمجھانے کے باوجود وہ اِس گناہ سے باز نہیں آتا اور ترکِ تعلق اور سلام نہ کرنے سے اصلاح کی توقع ہو تو جب تک وہ توبہ نہیں کرتا اس وقت تک اصلاح کےلیے سلام میں ابتدا نہیں کرنا چاہیے،لیکن سلام کا جواب دینا بہرحال واجب ہے۔

حوالہ جات

قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ: ويكره السلام على الفاسق لو معلنا، وإلا لا. قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ:وفي فصول العلامي: ولا يسلم على الشيخ المازح الكذاب واللاغي؛ ولا على من يسب الناس أو ينظر وجوه الأجنبيات، ولا على الفاسق المعلن، ولا على من يغني أو يطير الحمام ما لم تعرف توبتهم…وينبغي وجوب الرد على الفاسق لأن كراهة السلام عليه للزجر فلا تنافي الوجوب عليه تأمل.(الدر المختار مع رد المحتار:1/ 617،6/ 415) قال العلامۃ ملا علی قاری رحمہ اللہ: قال الخطابي: رخص للمسلم أن يغضب على أخيه ثلاث ليال لقلته، ولا يجوز فوقها إلا إذا كان الهجران في حق من حقوق الله تعالى، فيجوز فوق ذلك. قال: وأجمع العلماء على أن من خاف من مكالمة أحد وصلته ما يفسد عليه دينه أو يدخل مضرة في دنياه يجوز له مجانبته وبعده، ورب صرم جميل خير من مخالطة تؤذيه. وفي النهاية: يريد به الهجر ضد الوصل، يعني فيما يكون بين المسلمين من عتب وموجدة، أو تقصير يقع في حقوق العشرة والصحبة دون ما كان من ذلك في جانب الدين، فإن هجرة أهل الأهواء والبدع واجبة على مر الأوقات ما لم يظهر منه التوبة والرجوع إلى الحق، فإنه صلى الله عليه وسلم لما خاف على كعب بن مالك وأصحابه النفاق حين تخلفوا عن غزوة تبوك أمر بهجرانهم خمسين يوما، وقد هجر نساءه شهرا وهجرت عائشة ابن الزبير مدة، وهجر جماعة من الصحابة جماعة منهم، وماتوا متهاجرين.(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح :8/ 3147)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

فیصل احمد صاحب / مفتی محمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔