021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجد کے اندر اشتہار لگانے کا حکم
..نماز کا بیانمسجدکے احکام و آداب

سوال

مسجد میں سامنے کی دیوار پر کوئی دینی اشتہار لگانے کا کیا حکم ہے؟ جب کہ ان اشتہارات کے نیچے کسی دکان یا تجارتی ادارے کا نام ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں کا موقف یہ ہے کہ اشتہار اسی طرح لگا رہنے دیں؛ کیونکہ ادارے کی مشہوری ہوتی ہے۔ جبکہ کچھ لوگوں کا موقف ہے کہ مسجد اشتہار بازی کی جگہ نہیں ہے، لہٰذا اشتہار کاٹ کر لگانا چاہیے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ مسجد میں تجارت کی طرح تجارتی وغیر تجارتی اشتہار لگانا بھی غلط ہے۔ اس کا حکمِ شرعی بتادیں۔

o

مسجد کی کسی بھی دیوار پر کوئی ایسا اشتہار چسپاں کرنا ٹھیک نہیں ہے جس سے دیوار یا اس کا رنگ وروغن خراب ہو۔ نیز سامنے کی دیوار پر اشتہار لٹکانے سے بھی بچنا چاہیے، کیونکہ اس سے نماز کے دوران توجہ اور خشوع وخضوع پر اثر پڑسکتا ہے۔البتہ دائیں، بائیں یا پچھلی دیوار پر اگر کوئی ایسا اشتہار لٹکایا جائے جس میں کوئی دعا، مسئلہ یا کوئی اور دینی بات لکھی ہوئی ہو، اور آخر میں اشتہار بنانے والے ادارے یا دکان کا نام بھی لکھا ہو تو اس کی گنجائش ہے، بشرطیکہ اشتہار لٹکانے والے کا اصل مقصد اُس دعا یا دینی بات کی اشاعت ہو نہ کہ اپنے ادارے یا دکان کی مشہوری۔

حوالہ جات

الدر المختار (1/ 658): ( ولا بأس بنقشه خلا محرابه ) فإنه يكره لأنه يلهي المصلي ، ويكره التكلف بدقائق النقوش ونحوها خصوصا في جدار القبلة ، قاله الحلبي . وفي حظر المجتبى: "وقيل: يكره في المحراب دون السقف والمؤخر انتهى . وظاهره أن المراد بالمحراب جدار القبلة فليحفظ. حاشية ابن عابدين (1/ 658): قوله ( لأنه يلهي المصلي ) أي فيخل بخشوعه من النظر إلى موضع سجوده ونحوه، وقد صرح في البدائع في مستحبات الصلاة أنه ينبغي الخشوع فيها ويكون منتهى بصره إلى موضع سجوده الخ، وكذا صرح في الأشباه أن الخشوع في الصلاة مستحب ، والظاهر من هذا أن الكراهة هنا تنزيهية فافهم. …. قوله ( وظاهره الخ ) أي ظاهر التعليل بأنه يلهي وكذا إخراج السقف والمؤخر؛ فإن سببه عدم الإلهاء فيفيد أن المكروه جدار القبلة بتمامه لأن علة الإلهاء لا تخص الإمام بل بقية أهل الصف الأول كذلك، ولذا قال في الفتاوى الهندية: "وكره بعض مشايخنا النقش على المحراب وحائط القبلة لأنه يشغل قلب المصلي" آه . حاشية ابن عابدين (1/ 660): قد أخرج الإمام الطحاوي في ( شرح مجمع الآثار ) أنه نهى أن تنشد الأشعار في المسجد وأن تباع فيه السلع وأن يتحلق فيه قبل الصلاة،ثم وفق بينه وبين ما ورد أنه وضع لحسان منبراً ينشد عليه الشعر بحمل الأول على ما كانت قريش تهجوه به ونحوه مما فيه ضرر أو على ما يغلب على المسجد حتى يكون أكثر من فيه متشاغلا به . قال: وكذلك النهي عن البيع فيه هو الذي يغلب عليه حتى يكون كالسوق لأنه لم ينه علياً عن خصف النعل فيه مع أنه لو اجتمع الناس لخصف النعال فيه كره فكذلك البيع وإنشاد الشعر والتحلق قبل الصلاة فما غلب عليه كره وما لا فلا . فی تقریرات الرافعی علی حاشية ابن عابدين(1/86): هذا خلاف المشهور؛ فإن المشهور کراهة البیع فی المسجد وإن لم یغلب علیه.
..

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔