021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ترکہ کی تقسیم کے لیے کسی کو مقرر کرنا
63494وصیت کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ تینوں بیٹیاں اور ان کا ایک داماد اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ مرحومہ کے گھر کے کاغذات اور گھر کو فروخت کرکے اس کی تقسیم کا عمل سائل کے ذریعے کیا جائے۔ تیسرا تنازعہ یہ کہ مرحومہ نے اپنا ایک وصیت نامہ تحریر کرایا تھا جس میں صاف درج ہے کہ میں کسی کی مقروض نہیں ہوں اور میرے مکان میں میری کسی اولاد کا کسی بھی قسم کی تعمیر میں کوئی پائی پیسہ نہیں لگا،لہذا میرے انتقال کے بعد میرے مکان کی تقسیم شرعیت محمدی کے مطابق عمل میں لائی جائے،واضح رہے کہ یہ وصیت نامہ انعام اللہ کے مکان خالی کرنے کے بعد تحریر کیا گیا تھا،جس کے گواہ محمد صلاح الدین صاحب ہیں۔ بھائیوں نے والدہ کے انتقال کے بعد بہنوں سے قطع تعلق کرلیا اور ان کی تضحیک کی جس پر بہنیں بہت دل گرفتہ ہیں،بہنوں کو اعتماد میں لیے بغیر سب سے چھوٹے بھائی انعام اللہ نے مکان کا ایک حصہ اپنی مرضی سے کرایہ پر اٹھادیا اور دوسرے حصے پر بڑا بھائی آنا چاہتا ہے،اس بات پر بھی بہنیں رنجیدہ ہیں اور سائل کو اپنا نمائندہ بناکر وہ چاہتی ہیں کہ مکان کو تالا لگادیا جائے،جب تک مکان فروخت نہ ہوجائے،کیونکہ وہ بھائیوں پر عدم اعتماد کرتی ہیں اور یہ کہتی ہیں کہ اگر ہماری والدہ کو بھائیوں پر اعتماد ہوتا تو وہ وصیت نامے یا ہم بہنوں سے اس بات کا ذکر کرتیں اور مکان کے کاغذات اپنے داماد کے پاس نہ رکھواتیں اور بعد از وفات ان کاغذات کو سائل کو دینے کے لیے نہ کہتی کہ وہ ان کاغذات کو اپنی تحویل میں رکھے اور مکان فروخت کرکے اس کا حصہ شریعت کے مطابق تمام اولادوں میں تقسیم کردے۔ مکان کے متعلق بھی بتائیں کہ کیا وہ بہنوں کی مرضی کے بغیر کسی بھی قسم کا فیصلہ ان دونوں بھائیوں کے اختیار میں ہے اور سائل کے لیے کیا حکم ہے،کیا مکان فروخت ہونے تک تالا لگا کر رکھا جائے اور اس کی نگرانی کس کے ذمے ہے اور مکان کسی بھی بھائی کے تصرف میں بلااجازت دیگر لواحقین بشمول بہنوں کے آسکتا ہے یا نہیں،یا تینوں بہنوں کی رضامندی ضروری ہے یا نہیں،شریعت کا اس بارے میں کیا حکم ہے؟

o

2،3۔اگر مرحومہ نے آپ پر اعتماد کی وجہ سے یہ وصیت کی ہے کہ ان کے انتقال کے بعد آپ ان کی جائیداد کو شریعت کے مطابق ان کے ورثہ میں تقسیم کردیں اور آپ نے بھی اس وقت حامی بھرلی تھی تو اب شرعا اور اخلاقا آپ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ آپ ان کی جائیداد کو ان ورثہ میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کردیں اور جب تک مکان فروخت نہیں ہوجاتا،اس کا خیال رکھنا آپ کے ذمے ہے۔ نیز والدہ کے مکان میں ان کی وفات کے بعد جس طرح بھائیوں کا حصہ ہے اسی طرح بہنوں کا بھی حصہ ہے،اس لیے بشمول بہنوں کے تمام ورثہ کی دلی رضامندی کے بغیر کوئی ایک بھائی اسے اپنے استعمال میں نہیں لاسکتا۔

حوالہ جات

"الفتاوى الهندية" (6/ 137): "قال محمد - رحمه الله تعالى - في الجامع الصغير في رجل يوصي إلى رجل فقبله في حياة الموصي فالوصاية لازمة حتى لو أراد الخروج منها بعد موت الموصي ليس له ذلك، وإن رده في حياته إن رده في وجهه صح الرد وإن رده في غير وجهه لا يصح الرد ومعنى قوله في وجهه بعلمه ومعنى قوله في غير وجهه بغير علمه، كذا في المحيط".
..

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔