021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جماعت نکلنے کے اندیشے کے باوجود صاحب ترتیب پہلے قضاء پڑھے گا
..نماز کا بیانقضاء نمازوں کا بیان

سوال

سوال:کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ صاحب ترتیب کی اگر بالفرض عصر کی نماز قضا ہوگئی اور اب مغرب کی جماعت کھڑی ہوگئی تو وہ وضوء کرکے مسجد پہنچا اس کے لیے اس صورت میں کیا حکم ہے،آیا پہلے عصر کی قضاء پڑھے،پھر مغرب پڑھے،چاہے جماعت نکل جائے یا پہلے مغرب باجماعت پڑھے،پھر عصر کی قضاء پڑھے؟

o

ترتیب تین چیزوں سے ساقط ہوتی ہے : 1۔بھولنے سے،یعنی صاحب ترتیب نے بھولے سے وقت کی نماز پڑھ لی،پھر اسے یاد آیا کہ اس کے ذمے سابقہ نماز کی قضاء باقی ہے تو وقت کی نماز ہوگئی،اب صرف سابقہ نماز کی قضاء لازم ہے۔ 2۔فوت شدہ نمازوں کے چھ سے زیادہ ہونے سے 3۔اداء نماز کا وقت اتنا کم رہ جائے کہ اگر پہلے فوت شدہ نماز کی قضاء کرے گا تو اداء نماز کا وقت نکل جائے گا،ایسی صورت میں بھی پہلے اداء نماز پڑھے گا،پھر قضاء نماز لوٹائے گا۔ چونکہ مذکورہ صورت میں وقت کے نکلنے کا اندیشہ نہیں،صرف جماعت نکلنے کا اندیشہ ہے،اس لیے پہلے عصر کی قضاء نماز پڑھے گا،اس کے بعد مغرب پڑھے گا۔

حوالہ جات

"بدائع الصنائع " (1/ 131): "(أما) الترتيب بين قضاء الفائتة وأداء الوقتية فقد قال أصحابنا: إنه شرط. وقال الشافعي: ليس بشرط. (وجه) قوله أن هذا الوقت صار للوقتية بالكتاب والسنة المتواترة وإجماع الأمة، فيجب أداؤها في وقتها كما في حال ضيق الوقت وكثرة الفوائت والنسيان. (ولنا) قول النبي - صلى الله عليه وسلم -: «من نام عن صلاة أو نسيها فليصلها إذا ذكرها، فإن ذلك وقتها» وفي بعض الروايات: «لا وقت لها إلا ذلك، فقد جعل وقت التذكر وقت الفائتة» ، فكان أداء الوقتية قبل قضاء الفائتة أداء قبل وقتها فلا يجوز وروي عن ابن عمر عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: «من نسي صلاة فلم يذكرها إلا وهو مع الإمام فليصل مع الإمام وليجعلها تطوعا، ثم ليقض ما تذكر ثم ليعد ما كان صلاه مع الإمام» ، وهذا عين مذهبنا أنه تفسد الفرضية للصلاة إذا تذكر الفائتة فيها، ويلزمه الإعادة، بخلاف حال ضيق الوقت وكثرة الفوائت والنسيان".
..

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔