021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پیشگی رقم (مروج ایڈوانس سے زیادہ)دےکرکرایہ کم کروانا
..اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

کیافرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کےبارے میں: میں کرائےکےمکان میں رہتاہوں،یہ مکان دو منزلہ ہے،نیچے دوسرا کرایہ دار رہتاہے،میں نے مکان مالک کوڈھائی لاکھ ایڈوانس دیاہے جس کی وجہ سے مالک نےگھر کاکرایہ کم رکھاہے۔ دوسرا کرائےدارنے مجھ سےکہا کہ پیسے دےکر کرایہ کم کرواناٹھیک نہیں،جبکہ میں سمجھتاہوں ایساکرنےمیں کوئی برائی نہیں،کیونکہ میں نے اس کو پیسے دیے ہیں اورایک طرح کا احسان کیا ہےاوربدلے میں وہ میرے ساتھ اچھائی کررہاہے۔ جوابِ تنقیح:نیچےوالی منزل کی دوحصےکیےہیں،اس میں دوکرائےداربیٹھائےہیں،ہرایک6500 روپےکرایہ دیتاہےاورایک نے15000اوردوسرےنے20000ایڈوانس دیاہےاور میں نے 250000ایڈوانس دیاہےاور11500روپےکرایہ دیتاہوں۔

o

یہ رقم متعارف ایڈوانس سےزیادہ ہےاوراس کی وجہ سےکرائےمیں کمی کرناسودکےزمرےمیں آتاہے،اس لیےناجائزہےاوراب تک کرایہ میں جتنی بھی کمی ہوئی ہے،وہ بھی مالک مکان کوواپس کرنالازم ہے۔

حوالہ جات

قال العلامۃ السرخسی ؒ: إن المنفعة إذا كانت مشروطة في الإقراض فهو قرض جر منفعة ، وإن لم تكن مشروطة، فلا بأس به حتى لو رد المستقرض أجود مما قبضه فإن كان ذلك عن شرط لم يحل؛ لأنه منفعة القرض، وإن لم يكن ذلك عن شرط فلا بأس به؛ لأنه أحسن في قضاء الدين، وهو مندوب إليه. (المبسوط للسرخسي :14/ 35) قال العلامۃ الکاسانی: وأما الذي يرجع إلى نفس القرض فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب. هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض، فأما إذا كانت غير مشروطة فيه ولكن المستقرض أعطاه أجودهما فلا بأس بذلك؛ لأن الربا اسم لزيادة مشروطة في العقد، ولم توجد، بل هذا من باب حسن القضاء، وأنه أمر مندوب إليه قال النبي - عليه السلام -: «خيار الناس أحسنهم قضاء» . (بدائع الصنائع :7/ 395)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔