021-36880325,0321-2560445

بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قرض پر زکوۃ کاحکم
62468/57زکوة کابیانان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی

سوال

سوال:زید نے بکر کو دو لاکھ روپے قرضہ دیا ہے، اس کی زکوۃ زید ادا کرے گا یا بکر ؟؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں قرض دینے والے (زید)پر ان دولاکھ روپیہ کی زکوۃ فرض ہے لیکن اس کی ادائیگی اس وقت لازم ہوگی جب مقروض (بکر)یہ رقم واپس کردے گا یعنی جتنا عرصہ یہ رقم اس مقروض کے پاس رہے گی ، اس تمام عرصہ کی زکوۃ ادا کرنا لازم ہوگا لیکن اگر قرض خواہ مذکورہ رقم کے ملنے سے پہلے ہی ہر سال اپنے دیگر قابلِ زکوۃ اثاثوں(نقدی،مالِ تجارت،سونا چاندی وغیرہ) کے ساتھ اس رقم کی بھی زکوۃ ادا کردیا کرے تو اس طرح سے بھی زکوۃ ادا ہوجائے گی۔
حوالہ جات
رد المحتار - (ج 7 / ص 97) "( و ) اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة : قوي ، ومتوسط ، وضعيف ؛ ( فتجب ) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول ، لكن لا فورا بل ( عند قبض أربعين درهما من الدين ) القوي كقرض ( وبدل مال تجارة ) فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم"
..
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب